بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 420
By Maulana Wahiduddin Khan
I don't believe in religion. سوالات کے دوران اندازہ ہوا کہ اس الحاد کے پیچھے کوئی گہرا شعور یا کوئی سوچا سمجھا فکر نہیں ہے ۔ بس آزادی اس کا سبب ہے۔ ایسے نوجوانوں کو اینٹی مذہب سے زیادہ اینٹی اتھارٹی (anti authority) کہا جاسکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری نسل کے لوگ جب مل کر بیٹھتے ہیں تو وہ مذہب یا پالیٹکس کی بات نہیں کرتے۔ ان کی بات چیت کا موضوع فلم ، کھیل ، وغیرہ ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ اپنے کو لامذہب نہ کہیے بلکہ آزاد پسند کہیے۔ کیوں کہ آپ لوگوں کی لاند ہییت کے پیچھے کوئی عقل یا سائنٹفک دلیل نہیں ہے۔ یہاں انڈین ایکسپریس کا بڑودہ ایڈیشن (۱۲ نومبر ۱۹۹۴) دیکھا۔ اس میں لیٹرس کے کالم میں احمد آباد کے مسٹر سدھیر ترویدی کا خط تھا۔ انھوں نے ایک صاحب کا قول نقل کرتے ہوئے لکھا تھا کہ سردار پٹیل کو انڈیا کا لوہ پرش (Iron Man) کہا جاتا ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ان کو سنہ پرش (Lion man) کہا جائے ۔ یعنی شیر ہند۔ اسی طرح کچھ لوگوں نے سرفصل الحق کو شیر بنگال کہا۔ کچھ لوگوں نے شیخ عبد اللہ کو شیر کشمیر کا لقب دیا۔ وغیرہ ۔ مگر شیروں کی اس کثرت کے باوجود ہمارے ملک کا کوئی مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ میں سمجھتا ہوں کہ آزادی کے بعد ہمیں دھاڑنے والے شیروں کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ایسے خاموش انسانوں کی ضرورت تھی جو تدبیر اور حکمت کے ساتھ ملک کو ترقی کی طرف لے جانے کا منصوبہ بنائیں۔ ۱۲ نومبر کو دوپہر سے پہلے میں بڑودہ پہنچ چکا تھا۔ ایک بجے گیسٹ ہاؤس کا آدمی آیا۔ اس نے کہا کہ کھانا تیار ہے۔ میں کمرہ سے نکلا تو دروازہ کا تالا بند کرنے کے لئے چابی موجود نہیں تھی ۔ میں نے آدمی سے کہا کہ " چابی تو تم نے دی نہیں"۔ اس نے جواب دیا: " چابی کا ضرورت نہیں صاحب "۔ چنانچہ میں دروازہ مقفل کئے بغیر نیچے اتر گیا۔ کھانے کی میز پر میں اور پروفیسر رشید الدین صاحب (جامعہ ہمدرد) تھے ۔ جو آدمی کھانا رکھ رہا تھا، اس سے میں نے نام پوچھا۔ اس نے کہا " عبدل بھائی " میں نے کہا کہ یہ تو اصل نام معلوم نہیں ہوتا۔ اس نے کہا کہ میرا اصل نام عبد الغنی ہے۔ یہاں لوگ مجھ کو عبدل بھائی کے نام سے پکارتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader