Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 421

By Maulana Wahiduddin Khan

پروفیسر رشید الدین ایک ذی علم اور تجربہ کار آدمی ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی کے بہت سے قصے سنائے ۔ انھوں نے بتایا کہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۴ کو کانپور میں علی گڑھ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کی طرف سے ایک جلسہ تھا۔ اس جلسہ کے صدر جن سنتا کے ایڈیٹر منسٹر پر بھاش جوشی تھے ۔ اور پروفیسر رشید الدین اس میں مقرر کی حیثیت سے بلائے گئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریبہ میں اسلام کا تعارف کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر ہے ـــــــــ علم، عقل، عدل، رحیمیت (compassion) ۔ پر بھاش جوشی جو پہلے سے پروفیسر رشید الدین کو جانتے تھے ، انھوں نے آخر میں اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ مجھے اگر پروفیسر رشید الدین جیسے ۱۰۱ مسلمان مل جائیں تو میں اسلام قبول کرنے کے لئے تیار ہوں۔ پروفیسر رشید الدین نے الیسا مشن کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں کا دل جیت جائیے۔ آج ہمیں کنفرمیشن کی نہیں بلکہ پرسویشن (Persuasion) کی ضرورت ہے۔ ۱۲ نومبر کی شام کو میں اپنے کمرہ کا پچھلا دروازہ کھول کر باہر آیا۔ یہ دروازہ ایک پارک کی طرف کھلتا تھا۔ دور تک پھول اور ہر درخت اور ہر یالی کا منظر تھا۔ میں نے سوچا کہ پارک اس گیسٹ ہاؤس کی عمارت کی رونق ہے۔ عمارت کے ساتھ اگر یہ باغ نہ ہو تو گیسٹ ہاؤس بالکل سونا دکھائی دینے لگے۔ یہ سوچتے ہوئے قرآن کی آیت یاد آئی : ومساکن طیبۃ فی جنات عدن - ان الفاظ میں قرآن نے جنت کی منظر کشی کی ہے ۔ یعنی جنت میں پاکیزہ مکانات ابدی باغوں میں ہوں گے۔ ایک عمدہ مکان کے بارہ میں انسان کا تصور یہی ہے کہ وہ باغ کے درمیان ہو۔ انسانی تخیل آج بھی اس سے آگے نہ جاسکا ۔ قرآن یا اسلام کی صداقت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ اس کی ہر بات اپنے آخری معیار پر ہے۔ کوئی فلسفی یا کوئی آرٹسٹ کسی بھی چیز میں قرآن کے معیار سے آگے کا معیار پیش کرنے پر قادر نہیں۔ ۱۲ نومبر کی شام کو کھانے کا اجتماعی نظام جیوتی گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ مغرب کی نماز سے فراغت کے بعد پروفیسر رشید الدین ، پروفیسر امریک سنگھ اور میں کار میں بیٹھ کر روانہ ہوئے ۔ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page