Urdu book · اسفارِ ہند

ناگپور کا سفر

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

ناگپور کا سفر ناگپور کے روز نامہ اردو سما چار نے "قومی اتحاد، ایک جہتی اور سیکولرزم" کے موضوع پر ایک کنونشن کیا۔ اس کی دعوت پر ناگپور کا سفر ہوا۔ ذیل میں اس کی روداد درج کی جاتی ہے۔ ۸ نومبر ۱۹۹۲ کی دوپہر کو گھر سے ایر پورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ اسی راستہ میں نئی دہلی کا امریکی سفارت خانہ واقع ہے۔ یہ سفارت خانہ غیر معمولی طور پر بہت بڑا ہے۔ یہ سرد جنگ (کولڈ وار) کے زمانہ کی یادگار ہے۔ سابق سوویت یونین نے چونکہ دہلی میں ایک بڑا سفارت خانہ قائم کیا تھا اس لیے امریکہ نے بھی اس کے جواب میں یہاں بہت بڑا سفارت خانہ بنایا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد نئی دہلی میں اس قسم کے بڑے امریکی سفارت خانہ کی اہمیت ختم ہو چکی ہے۔ اس سفارت خانہ کو دیکھ کر میرا ذہن خدا کی اس نشانی کی طرف مر گیا جس کو کمیونسٹ ایمپائر کا خاتمہ کہا جاتا ہے۔ امریکہ اس کو اپنے قومی فخر کے خانہ میں لکھے ہوئے ہے۔ تمام دنیا کے لکھنے اور بولنے والے مسلمان اس کو افغانی سور ماؤں کا کارنامہ شمار کر رہے ہیں۔ مگر کوئی نہیں جس کو اس انقلابی واقعہ کے بعد قرآن کی یہ آیت یاد آئی ہو: قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (آل عمران ۲۶) ایر پورٹ میں داخل ہوا۔ وہاں وہی فضا نظر آئی جس کو بار بار میں دیکھتا رہتا ہوں۔ انتظار گاہ میں ایک صاحب میرے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کی طرف میں نے دیکھا تو ان کے چہرے کا اطمینان خاموش زبان میں کہہ رہا تھا: میرے پاس ٹکٹ ہے، مجھے منزل کی طرف سفر کرنے سے کون روک سکتا ہے۔ میں نے سوچا کہ کاش لوگوں کو یہ معلوم ہوتا کہ جو اپنی جیبوں میں ٹکٹ لیے ہوئے ہیں وہ بھی حقیقت کے اعتبار سے بے ٹکٹ ہیں۔ کاش لوگ جانتے کہ جن کی سیٹیں رزرو ہیں ان کی سیٹیں بھی ابھی تک رزرو نہیں ہوئیں۔ جو منزل پر پہنچنے کے یقین کیے ہوئے ہیں ان کا منزل پر پہنچنا بھی اتنا ہی مشتبہ ہے جتنا کہ کسی دوسرے شخص کا۔ جہاز کے اندر انڈین ایر لائنز کا فلائٹ میگزین سو آگت (نومبر ۱۹۹۲) دیکھا۔ اس میں ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page