بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 432
By Maulana Wahiduddin Khan
They (Muslims) have gone to the extent of saying that if it is proved that the temple was destroyed to raise the mosque, they would themselves disown it. Who is to decide? Which structure was there initially: temple or mosque? مسٹر کلدیپ نیر یہاں اس واقعہ کا ذکر کرنا بھول گئے جو ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ء کو نئی دھلی کے وٹہل بھائی پٹیل ہاؤس میں پیش آیا تھا۔ یہاں بابری مسجد اور رام مندر کے سوال پر ایک مشترکہ میٹنگ ہوئی تھی جس میں خود مسٹر کلدیپ نیر بھی موجود تھے۔ اس میں ہند و نمائند اور مسلم سائیڈ دونوں طرف کے لوگ شریک ہوئے۔ یہ بحث کلیم اور کاؤنٹر کلیم کی صورت میں دیر تک چلتی رہی۔ آخر میں میں نے کہا کہ اس طرح کی بحث سے تو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں۔ درست طریقہ یہ ہے کہ ثالثی (آربٹریشن) کے اصول پر اس کو حل کیا جائے۔ میں نے کہا کہ تاریخ دانوں کا ایک بورڈ بنا دیا جائے یہ بورڈ تاریخی جائزہ لے کر جس نتیجہ تک پہنچے اس کو دونوں فریق مان لیں۔ اس تجویز سے کلدیپ نیر سمیت ، شرکا کی اکثریت نے اتفاق کیا۔ قریب تھا کہ وہ اتفاق رائے سے منظور ہو جائے کہ عین اسی وقت بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے کنوینیر صاحب نے با آواز بلند کہنا شروع کیا کہ ہم اس تجویز کو نہیں مانتے۔ اس کے بعد انھوں نے اتنا شور مچایا کہ مزید گفتگو جاری رکھنا ناممکن ہوگیا۔ چنانچہ مجلس بجائے کے لئے اٹھ گئی اور کوئی بات طے نہ ہوسکی۔ میرے کمرہ میں ایک ٹی وی سیٹ رکھا ہوا تھا، مگر میں نے اس کو کبھی نہیں کھولا۔ ۴ نومبر کی صبح کو روانگی کے وقت تجربہ کے لئے میں نے اس کی سوچ دبا دی تو اسکرین پر روشن حروف میں ہندی، اردو ، انگریزی میں یہ الفاظ لکھ اٹھے : نستے جی ، خوش آمدید ، ہیلو۔ یہ انتظام شاید اس لئے ہوگا کہ آنے والا آدمی جب کمرہ میں داخل ہو کر اس کو کھولے تو وہ نئے آنے والے کو گیسٹ ہاؤس کی طرف سے استقبال کا کلمہ پیش کر سکے۔ مشین نے اپنا کام کیا۔ مگر مشین کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس وقت اسے اپنے مہمان کو الوداع کہنا ہے نہ کہ خوش آمدید۔ مشینی دماغ اور انسانی دماغ کا فرق یہی ہے۔ مشینی دماغ فیڈ کئے ہوئے سبق کو دہراتا ہے جب کہ انسان خود اپنی سوچ کے تحت اپنا جواب وضع کرتا ہے۔ ۴ نومبر کو واپسی کا دن تھا۔ صبح چائے سے فارغ ہونے کے بعد میں اور پروفیسر رشید الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader