بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 431
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے قریب آکر پوچھا: آپ کا رسالہ ابھی نکل رہا ہے۔ اس عجیب سوال کا میں کوئی جواب نہ دے سکا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ وہ پوچھ رہے ہوں: "آپ کی موت ابھی واقع نہیں ہوئی"۔ مذکورہ بزرگ کی طرف میں نے حیرانی کے ساتھ ایک نظر ڈالی اور پھر ان کو سلام کرکے خاموشی کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گیا جو مجھ کو قیام گاہ لے جانے کے لئے وہاں کھڑی ہوئی تھی۔ ۴ نومبر کی صبح کو نیند کھلی تو باہر پھیلے ہوئے درختوں کی قطاروں سے مختلف چڑیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ کؤا، کوئل اور بلبل وغیرہ۔ صبح کے سہانے میں یہ آوازیں عجیب کیفیت پیدا کر رہی تھیں۔ میں نے سوچا کہ خدا کے باغ میں کؤے کی کائیں کائیں بھی ہے اور بلبل کے چہچہے بھی۔ یہاں کوئل کی کوک بھی ہے اور فاختہ کی غٹرغوں بھی۔ یہ خدا کی تخلیقی اسکیم ہے۔ اب جو لوگ انسانی زندگی میں یکسانی لانے کے لئے اس کے اوپر اپنا کلچرل رولر چلانا چاہتے ہیں وہ خدا کی تخلیقی اسکیم کی نفی کرنا چاہتے ہیں۔ ایسا منصوبہ فطرت کے خلاف ہے، اور جو چیز فطرت کے خلاف ہو وہ خدا کی دنیا میں کبھی کامیاب ہونے والی نہیں۔ ۴ نومبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر پروفیسر رشید الدین خاں (جامعہ ہمدرد، نئی دہلی) کا ساتھ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ جواہر لال نہرو کو اقبال کے یہ معنی خیز اشعار بہت پسند تھے، اور وہ اکثر ان کو اپنی تقریروں میں دہرایا کرتے تھے: یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا انڈین ایکسپریس کے بڑودہ ایڈیشن (۴ نومبر ۱۹۹۳) میں ایو دھیا اور ڈکٹ پر مسٹر کلیپ نیتیر کا ایک مضمون چھپا ہوا تھا۔ اس میں انھوں نے لکھا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندو یہ دعویٰ کرتے ہیں بابری مسجد کے مقام پر ایک رام مندر تھا۔ اس کو توڑ کر عین اسی مقام پر مسجد بنائی گئی۔ مسلمان اس دعویٰ کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس معاملہ میں وہ اس حد تک گئے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ ثابت ہو جائے کہ مسجد بنانے کے لئے مندر کو ڈھایا گیا تھا تو وہ خود اس کو چھوڑ دیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کون اس کو طے کرے کہ وہاں کون سی عمارت موجود تھی، مندر یا مسجد۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader