بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 436
By Maulana Wahiduddin Khan
گوہاٹی کا سفر گوہاٹی (آسام) میں ۳ - ۶ جنوری ۱۹۹۵ء کو ایک نیشنل سیمنار ہوا۔ اس کی دعوت پر گوہاٹی کا سفر ہوا۔ اس سیمنار کا موضوع تھا —— نارتھ ایسٹ انڈیا اور اکیسویں صدی: North-east India and the 21st century. آج گوہاٹی کے لئے روانگی کا دن تھا۔ میں تیاری میں مصروف تھا۔ دو صاحبان ملاقات کے لئے آگئے۔ دونوں پڑھے لکھے اور دیندار مسلمان تھے۔ دونوں نے کہا کہ ہم کو آپ کے مشن سے اختلاف ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا اختلاف ہے۔ ایک نے کہا کہ آپ ہمارے اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ دوسرے نے کہا کہ آپ ہند ؤوں کے مقابلہ میں صبر کرنے کے لئے کہتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ اس وقت میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ میں آپ دونوں سے صرف ایک بات کہتا ہوں۔ آج رات کو جب آپ بستر پر سونے کے لئے جائیں تو یہ سوچیں کہ کل اگر آپ کی موت ہو جائے اور خدا آپ سے پوچھے کہ تم الرسالمشن کے مخالف کیوں بن گئے تھے۔ تو کیا آپ کا یہ جواب وہاں کام آئے گا کہ ہم اس لئے مخالف ہو گئے کہ یہ شخص ان لوگوں پر تنقید کرتا تھا جس کو ہم نے بطورِ خود اکابر کا درجہ دے رکھا تھا۔ اور وہ ہندؤوں سے صبر کرنے کے لئے کہتا تھا جن کو ہم اپنا قومی دشمن بنائے ہوئے تھے۔ جنوری ۱۹۹۵ء کی دو تاریخ ہے اور صبح ساڑھے گیارہ بجے کا وقت، میں دہلی ایئرپورٹ پر گوہاٹی جانے والے جہاز کے انتظار میں بیٹھا ہوں۔ نشست گاہ میں نسبتاً کم آدمی نظر آرہے ہیں۔ تا ہم تقریباً ہر آدمی کے ہاتھ میں آج کا اخبار ہے۔ اخبار کیا ہے ۔ خارجی دنیا کا خبرنامہ ۔ میں نے سوچا: ہر آدمی دوسروں کا خبرنامہ پڑھ رہا ہے۔ خود اپنا خبرنامہ پڑھنے کا شوق کسی کو نہیں ۔ کچھ دیر میں گیٹ پر روشن حروف میں یہ الفاظ نمایاں ہو گئے (Now Boarding-889) یہ اس بات کا خاموش اعلان تھا کہ گوہاٹی جانے والا جہاز روانگی کے لئے تیار ہے۔ مسافر ایک ایک کر کے گیٹ سے گزر کر انڈین ایئرلائنز کی فلائٹ ۸۸۹ میں داخل ہو گئے۔ جہاز کسی قدر تاخیر کے ساتھ روانہ ہوا۔ دہلی سے گوہاٹی کے لئے یہ سوا دو گھنٹہ کی نان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader