بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 437
By Maulana Wahiduddin Khan
اسٹاپ فلائٹ تھی۔ ایئر پورٹ پر یہ اعلان کیا گیا تھا کہ جہاز ٹھیک وقت سے گو ہائی کے لئے روانہ ہوگا۔ مگر جب تمام مسافر جہاز کے اندر بیٹھ گئے تو معلوم ہو اکہ کچھ ٹیکنکل سبب کے تحت جہاز لیٹ ہے ، چنانچہ ۴۵ منٹ کی تاخیر کے ساتھ جہاز پونے ایک بجے روانہ ہوا۔ میں نے سوچا کہ ہندوستان میں آدمی خواہ ہوائی جہاز سے سفر کرے یا ٹرین کے ذریعہ، ہر جگہ ناقابل قیاس مسائل ہیں۔ کل دہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک ناقابل ذکر واقعہ پیش آیا۔ ہمارے دفتر کے ایک کارکن نصیر احمد صاحب کے بوڑھے والد اپنے بیٹے سے مل کر واپس اپنے وطن یوپی جارہے تھے۔ ان کے ساتھ ایک نیا سوٹ کیس تھا جس میں کچھ نئے کپڑے اور کھانے کا سامان تھا۔ بزرگ پلیٹ فارم پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے بیٹے سیٹ دیکھنے کے لئے گاڑی میں گئے تھے۔ اتنے میں ایک آدمی آیا۔ اس نے کہا: بڑے میاں چلئے آپ کو گاڑی میں بٹھا دیں۔ یہ کہہ کر فوراً اس نے بیگ اٹھایا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ بڑے میاں کہتے رہے کہ میرے ساتھ میرا لڑکا ہے۔ مجھے ضرورت نہیں۔ مگر وہ آدمی تیزی سے بیگ لے کر غائب ہو گیا۔ اس قسم کے جرائم ہر روز ہر بستی اور ہر شہر میں ہو ر ہے ہیں۔ ان کے مسلسل جاری رہنے کا واحد سبب یہ ہے کہ مجرمین کو یہ اطمینان رہتا ہے کہ انہیں کوئی سزا ملنے والی نہیں۔ اگر انہیں یقین ہو کہ جرم کرنے پر مجھے کوڑا مارا جائے گا، میرا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا، مجھے گولی مار دی جائے گی ، تو جرائم اپنے آپ ختم ہو جائیں۔ پرواز کے دوران ۲ جنوری کے اخبارات ہندو، بزنس لائن ، دی آبزرو ر پڑھا۔ مگر ان میں کوئی قابل ذکر بات نہیں ملی۔ ہندوستان کے اخبارات پر سیاسی ذوق اتنا زیادہ چھایا ہوا ہے کہ میرے جیسے آدمی کو کوئی کام کی بات مشکل ہی سے ملتی ہے۔ مغربی ملکوں میں ایسا نہیں ہے۔ مگر وہاں بھی صرف یہ فرق ہوا ہے کہ اخباروں کے صفحات پر ریاست کی جگہ تجارت نے قبضہ کر لیا ہے۔ انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ میگزین سو آگت کا شمارہ جنوری ۱۹۹۵ دیکھا۔ اس میں ایک مضمون ہندوستان کی سیاحت پر تھا جو مارک نکلس (Mark Nicholls) کے قلم سے تھا۔ وہ بذریعہ ٹرین مختلف مقامات کا سفر کرتا ہوا آگرہ پہنچتا ہے۔ وہاں وہ تاج محل کو دیکھتا ہے۔ تاج محل کو وہ عجوبۂ عالم (Wonder of the World) قرار دیتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ اگر کسی ایک بلڈنگ کو انڈیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader