Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 441

By Maulana Wahiduddin Khan

ہنس پڑے۔ یہ ہنسی غضب کی تھی۔ وہ آدمی کو مسحور کر دینے والی تھی ۔ اس وقت میری سمجھ میں آیا کہ سونسن پر چل نے کیوں اپنے لڑکے سے کہا تھا کہ اس ننگے فقیر سے (naked Fakir) مت ملنا ۔ اس کی ہنسی تم کو کھا جائے گی۔ اشوک ہوٹل میں مولانا اسعد مدنی کے صاحبزادے جناب محمود اسعد مدنی (۲۸ سال) سے ملاقات ہوئی۔ وہ بزنس کے سلسلہ میں یہاں آئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب میں دارالعلوم میں تعلیم حاصل کر رہا تھا، اس وقت سے میرے اندر تجارت کا جذبہ پیدا ہوا۔ لوگوں سے سنتا تھا کہ چندہ لے کر کھا گئے تو میں نے طے کیا کہ میں بزنس کروں گا۔ چنانچہ انھوں نے لکڑی کی تجارت شروع کی ہے۔ ٹیک کی لکڑی وہ آسام سے خرید کر لے جاتے ہیں اور لکھنؤ میں ہول سیل میں اس کو فروخت کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ نے بہت اچھا کیا۔ عام طور پر علما کے خاندان کے لوگ مدرسہ اور چندہ کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ آپ نے اس کے بجائے تجارت کا کام شروع کر کے ایک مثال قائم کی ہے۔ مولانا محمود اسعد مدنی سے میں نے کہا کہ میں گوہاٹی کے کچھ مسلمانوں سے ملنا چاہتا ہوں ۔ انھوں نے کچھ مقامی مسلمانوں سے ربط قائم کیا۔ چنانچہ ۵ جنوری کو نماز مغرب کے بعد کچھ لوگ آگئے ۔ ہوٹل کے کمرہ میں نشست ہوئی۔ ان میں جمیل الدین احمد صاحب، رقیب الحسین صاحب آصف احمد صاحب، علی رضا صاحب ، غلام اکبر صاحب وغیرہ موجود تھے۔ تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ کی اس نشست میں گوہاٹی اور آسام کے مسلمانوں کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ آسام میں مسلمانوں کی تعداد تقریبا ۳۰ فیصد ہے اور گوہاٹی میں تقریباً پندرہ فیصد ۔ گوہاٹی شہر میں تقریباً ایک سو مسجدیں ہیں۔ بہت سے مدرسے قائم ہیں۔ ایک بڑا مدرسہ جس میں دورہ حدیث تک کی تعلیم ہوتی ہے۔ تاہم پورے آسام میں مسلمانوں کا کوئی اخبار موجود نہیں ۔ روایتی طور پر آسام میں ہندوئوں اور مسلمانوں کے تعلقات بہت اچھے رہے ہیں۔ مگر ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد یہاں کے مسلمانوں نے انتہائی نادانی سے کام لیتے ہوئے ایودھیا کا غصہ آسام میں اتارنا چاہا۔ اس کے نتیجہ میں تعلقات میں کچھ بگاڑ آگیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page