بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 440
By Maulana Wahiduddin Khan
۲ جنوری کی شام کو میں اپنے کمرہ میں تھا کہ داخلی ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا تو دوسری طرف سے آواز آئی کہ جسٹس بھاگوتی آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد ان سے گفتگو ہوئی۔ وہ بھی سیمنار میں آئے ہوئے ہیں اور اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ ضرور تشریف لائیں۔ چند منٹ کے بعد وہ کمرہ میں آگئے۔ جسٹس پی این بھاگوتی (سابق چیف جسٹس آف انڈیا)، انٹرنیشنل شہرت کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں سے واپسی کے بعد میں ار ریٹائر پا جا رہا ہوں۔ وہاں کی حکومت نے اپنے دستور کا ڈرافٹ تیار کرنے کے لئے مجھے بلایا ہے۔ وہاں سے واپسی کے بعد میں دہلی میں آپ سے تفصیلی ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ گفت گو کے بعد ۱۵ جنوری کی تاریخ طے ہوئی۔ میں نے تجویز کیا کہ دہلی میں کچھ معروف افراد پر مشتمل ایک حلقہ بنایا جائے۔ اس کی ماہانہ میٹنگ ہوا کرے۔ دوسرے کاموں کے علاوہ اس کا ایک خاص کام یہ ہو کہ پیش آمدہ ایشوز پر وہ تبادلہ خیال کے بعد ایک اسٹیٹمنٹ تیار کرے اور فوری طور پر اس کو اخبارات میں شائع کرایا جائے ۔ انھوں نے اس سے مکمل اتفاق کیا۔ اور کہا کہ میں سفر سے واپسی کے بعد ۱۵ جنوری تک آپ سے ملوں گا اور اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لئے گفتگو کروں گا۔ آج شام کو مغرب کی نماز ہوٹل کے کمرہ میں پڑھی۔ نماز کے بعد ہاتھ اٹھایا تو یہ دعا زبان سے نکلی : اللهم ادخلنی مدخل صدق و اخرجنی مخرج صدق و اجعل لی من لدنك سلطاناً نصيراً ۲ جنوری کی شام کو ۸ بجے ایک ہال میں تفریحی پروگرام تھا۔ لوگ اس کو دیکھ کر محفوظ ہورہے تھے۔ میں رنج و غم میں ڈوبا ہوا تھا۔ مجھے قرآن کی آیت (الجمعه (۱۱) یاد آئی۔ میں نے سوچا کہ آج کی دنیا میں آدھے انسان لہو میں مبتلا ہیں۔ اور آدھے انسان تجارت میں۔ ذکر خداوندی میں مشغول ہونے والا انسان کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اس سے واپسی میں مسٹر چترنجن ڈیب سے ملاقات ہوئی۔ وہ اگر تلا کے رہنے والے ہیں۔ ۱۹۳۶ میں جب گاندھی جی نوآکھلی گئے تھے تو وہ وہاں جاکر گاندھی جی سے ملے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت میری عمر ۱۶ سال تھی۔ میں نے گاندھی جی کو ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا تو گاندھی جی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader