Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 449

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے یاد ہے کہ کس طرح میں گوشت کھانے کی کوشش کرتا تھا جس کا ذائقہ مجھے بالکل ربڑ کی طرح معلوم ہوتا تھا۔ البتہ اپنے مذہب کے احترام میں گائے کا گوشت کھانے سے میں نے انکار کر دیا۔ مسٹر ٹھکر اپنے آ شرم سے ایک انگریزی پر چہ اشانی (Ishani) کے نام سے نکالتے ہیں۔ ان کا نظریہ یہ ہے کہ سیاست اور مذہب کا دور ختم ہو گیا۔ مستقبل اب سائنس اور روحانیت کے لئے ہے: میں نے کہا کہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ سیاست کا رول اب محدود ہو گیا ہے۔ مگر سچا اور حقیقی مذہب بدستور علم اور روحانیت دونوں کے لئے گائیڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ گوہاٹی کے سیمنار (اور اس طرح کے دوسرے سیمناروں میں جو باتیں میں نے سنیں اور مسلم اجتماعات میں جو باتیں کی جاتی ہیں، جب میں دونوں کا مقابلہ کرتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں میں کوئی مناسبت نہیں۔ اس طرح کے سیمناروں میں ہمیشہ ملکی مسائل زیر بحث آتے ہیں ۔ مثلاً گوہاٹی کے سیمنار میں ساری بحث دو نکتہ پر مرکوز رہی۔ اس علاقہ میں علیحدگی پسندی کے رجحان کو کس طرح ختم کیا جائے۔ اس علاقے کی معاشی پس ماندگی کو کس طرح دور کیا جائے ۔ اس کے برعکس مسلم اجتماعات میں ساری بحث صرف مسلم کمیونٹی کے مسائل پر ہوتی ہے۔ یہ بحث بھی اس مفروضہ پر ہوتی ہے کہ مسلمان اس ملک میں تعصب اور ظلم کا شکار ہو رہے ہیں، اس کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ اس صورت حال نے مسلمانوں کو ملک کی مین اسٹریم سے الگ کر دیا ہے۔ وہ اس طرح زندگی گزار رہے ہیں جیسے کہ وہ کوئی الگ قوم ہیں۔ مزید یہ کہ وہ اس ملک میں ایک محروم اور مظلوم طبقہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک مسلمان بزرگ سے میں نے کہا کہ ہندوستان کی قیادت کی سو سالہ سرگرمیوں کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے ہنگامہ کر کے تقسیم کرانا، اور جب تقسیم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page