بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 448
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر تھور تھکم مشنری انسان کا کامیاب نمونہ ہیں۔ انھوں نے نیشنل انٹیگریشن کمشن لیکن ۱۹۵۵ میں ناگا پہاڑیوں میں گاندھی آشرم بنایا۔ اس وقت سے اب تک ہر قسم کی مشکلات کے باوجود وہ اس ایک مقصد کے تحت یہاں جمے ہوئے ہیں۔ ایک ایسا علاقہ جہاں علیحدگی کی تحریک جارحانہ بنیاد پر چل رہی تھی، وہاں انھوں نے ملکی اتحاد کے لئے خاموش محنت شروع کی۔ ان پر کئی بار قاتلانہ حملے کئے گئے، مگر آج وہ ناگاؤں کے درمیان ایک محبوب شخصیت ہیں۔ انھوں نے اپنے مقصد میں قابل لحاظ کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ کامیابی انھیں کیسے ملی۔ اس کے لئے سب سے پہلے انھوں نے یہ کیا کہ یہاں آنے کے بعد انھوں نے پوری طرح ناگا کلچر کو اختیار کر لیا۔ وہ انھیں میں کے ایک فرد بن گئے۔ وہ نہایت سخت قسم کے سبزی خور ہیں اور پورے معنوں میں گاندھی وادی ہیں۔ مگر یہاں انھوں نے دیکھا کہ گوشت ناگاؤں کی روز مرہ کی غذا ہے۔ ایسی حالت میں سبزی خوری کی عادت کو لے کر وہ ناگاؤں میں گھل مل نہیں سکتے تھے۔ چنانچہ وہ اپنے مقصد کی خاطر گوشت خور (non-vegetarian) بن گئے۔ انھوں نے اپنا قصہ بتاتے ہوئے کہا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader