Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 454

By Maulana Wahiduddin Khan

تئیں ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں ۔ ایک جلس میں ایک صاحب پر جوش تقریر کر رہے تھے کہ بنگلہ دیش سے مسلمان برابر سرحد پار کرکے ہمارے یہاں آرہے ہیں ، یہ سلسلہ بند ہونا چاہیئے ۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ بنگلہ دیش کو ختم کرنا ہمارے بس میں نہیں ہے ، پھر ہم کیا کر سکتے ہیں ۔ مسٹر بننے ہزاریکا نے کہا کہ مائیگریشن موجودہ زمانہ کی ایک عام چیز ہے۔ امریکہ بھی اس کو روک نہیں سکتا ، پھر ہم کیسے اس پر روک لگاسکتے ہیں ۔ پھر انھوں نے کہا کہ نصف ملین ہندوستانی نیپال چلے گئے ہیں۔ وہاں ان کا جانا نیپال کے لئے ایک مسئلہ ہے۔ مگر ہم ایسا نہیں کرتے کہ ان ہندوستانیوں کو وہاں سے واپس لانے کی بات کریں۔ پھر بنگلہ دیش والوں پر اتنا شور کیوں۔ ہم ڈبل اسٹینڈرڈ نہیں ہو سکتے۔ ایک صاحب نے کہا کہ اس علاقہ میں علیحدگی پسندی کا رجحان پیدا ہونے کا اصل سبب یہ ہے کہ ترقیات کا فائدہ خواص تک رہ جاتا ہے ، وہ عوام تک نہیں پہنچتا۔ The fruit of developments do not perculate to the grassroot level. دوسرے صاحب نے کہا کہ یہی اصل بات نہیں ہو سکتی۔ اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پنجاب کو ترقیاتی پروگراموں کا اتنا فائدہ پہنچا کہ وہ ملک کی سب سے زیادہ خوش حال ریاست بن گئی۔ وہاں اس معاملہ میں عوام و خواص میں کوئی تفریق نہیں۔ اس کے باوجود پنجاب میں علیحدگی کی خوں ریز تحریک شروع ہوئی ۔ ۴ جنوری کی شام کے اجلاس میں مجھے موقع دیا گیا۔ میں دہلی سے ایک انگریزی پیپر تیار کر کے لے گیا تھا جو ملک میں بڑھتی ہوئی علاقائیت پسندی کے خلاف تھا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ علیحدہ خطہ بنانا کسی کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ اس معاملہ کو پاکستان اور بنگلہ دیش کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ دونوں ہی مسائل کے حل کے نام پر علیحدہ ملک کے طور پر وجود میں آئے ۔ مگر دونوں میں سے کسی جگہ بھی مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ بلکہ مسائل پہلے سے زیادہ بڑھ گئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ جغرافی تقسیم یا علیحدگی سے مسائل کے حل کا کوئی تعلق نہیں۔ سیمنار کے ناظم مسٹر نتھور ٹھکر نے آخر وقت میں کہا کہ آپ کو ایک اور موضوع پر بھی بولنا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page