Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 457

By Maulana Wahiduddin Khan

اشانی کے شمارہ اپریل 1996 میں منی پور کے شری رتن تھیم (Ratan Thiyyam) کا انٹرویو چھپا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں مجھ سے زیادہ غمگین شاید اور کوئی نہیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آج میرے وطن منی پور کی کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی : Nothing seems to be in place in Manipur today. انھوں نے کہا کہ پہلے ہم منی پور کے لوگ بہت آسودہ زندگی گزارتے تھے۔ ہمارا ہر معاملہ درست تھا ۔ کھانا پینا ، ہر چیز فراغت کے ساتھ ملی ہوئی تھی ۔ آج سب کچھ تباہ ہو چکا ہے۔ قدیم روایتیں ختم ہو گئیں۔ ہمارا اعتماد جاتا رہا ۔ ۳۰ سال کی مدت میں پوری زندگی کچھ سے کچھ ہو گئی۔ یہ سب نتیجہ ہے علیحدگی پسندی کی انتہا پسندانہ اور تشدد دانہ تحریک کا۔ میں نے اس کو پڑھاتو میں نے سوچا کہ آج ٹھیک یہی حال ان تمام مسلم علاقوں کا بھی ہے جہاں آزادی کے نام پر اسی قسم کی تحریکیں چلائی گئیں۔ مثلاً بوسنیا، چیچنیا، برما، فلپائن، فلسطین، وغیرہ ۔ ہر جگہ آج سے ۳۰ سال پہلے مسلمان نہایت عمدہ حالت میں تھے ۔ ہر قسم کی ترقی کے مواقع انھیں حاصل تھے ۔ مگر انھوں نے تشدد دانہ قسم کی سیاسی تحریکیں چلا دیں۔ اس کے نتیجہ میں ملا ہوا بھی تباہ ہو گیا۔ اور مزید کچھ تو ملنے والا ہی نہ تھا۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ لوگوں کو اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ وائلنٹ ایکٹوزم کا زمانہ ختم ہو گیا۔ اب صرف نان وائلنٹ ایکٹوزم یا پیس فل ایکٹوزم ہی ممکن ہے۔ اور وہ بھی اس وقت جب کہ فی الواقع اس کی ضرورت پیش آگئی ہو۔ نارتھ ایسٹرن انڈیا میں علیحدگی پسندی کے رجحان کو ختم کرنے اور اس کو ملک کی مین اسٹریم میں لانے کے لئے بار بار نئی دہلی اور مقامی لیڈروں کے درمیان میٹنگیں ہوئیں اور اکارد طے پائے۔ مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ مثلاً : Shillong Accord 1975, Assam Accord 1985, Mizoram Accord 1986, Tripura Accord 1988, Bodo Accord 1994 اس کے باوجود اس علاقہ کی بے چینی ختم نہیں ہوئی۔ درجنویں عسکری تنظیمیں بدستور پورے علاقہ میں سرگرم ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس علاقہ کی معاشی اور تمدنی پسماندگی بدستور باقی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page