بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 458
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان ٹائمس کے اسسٹنٹ ایڈیٹر مسٹر آش نرائن رائے کا ایک مقالہ جنرل آف پیس اسٹڈیز نئی دہلی کے شمارہ جولائی - اگست ۱۹۹۵ میں چھپا ہے ۔ اس میں وہ لکھتے ہیں کہ اس علاقہ میں امن اور ہم آہنگی کی کنجی محض اکارڈوں پر دستخط کرنا نہیں ہے بلکہ ضرورت یہ ہے کہ یہاں اقتصادی ترقی لائی جائے اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ معاشی وسائل فراہم کئے جائیں : جہاں تک مجھے معلوم ہوا ہے ، خرابی کی اصل جڑ کرپشن ہے ، مرکزی حکومت کی طرف سے اس علاقہ کی ترقی کے لئے بہت بڑی رقمیں منظور کی گئیں مگر وہ زیادہ تر لوگوں کی جیبوں میں چلی گئیں۔ اس علاقہ کے ترقیاتی کاموں میں وہ بہت کم استعمال ہو سکیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ یہ درست ہے کہ نارتھ ایسٹ ایریا ایک پرابلم ایریا بن گیا ہے۔ لیکن ہر مسئلہ کا الزام حکومت کو دینا صحیح نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ تو ہم اپنے عمل کی قیمت بھگت رہے ہیں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جب ہندوستان میں آندوی کی تحریک چل رہی تھی تو ہمارے سیاسی لیڈر ہر مسئلہ کا الزام برٹش گورنمنٹ کو دیدیتے تھے، خواہ وہ کوئی بھی مسئلہ ہو۔ اس وقت یہ بات بہت اچھی لگتی تھی کیوں کہ اس طرح عوام انگریزوں کے خلاف اٹھ رہے تھے اور وہ عوامی طاقت ظہور میں آ رہی تھی جو ہماری بے تشدد تحریک آزادی کو طاقت ور بنانے کے لئے ضروری تھی۔ اس طرح عوام کی نفسیات یہ بن گئی کہ تمام مسائل کی ذمہ دار حکومت ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ اپنے اس مزاج کی بنا پر اب وہ اسی طرح خرابی کا الزام قومی حکومت کو دے رہے ہیں۔ یہ قیمت ہمیں اس وقت تک بھگتنا ہوگا جب تک عوام میں نیا شعور پیدا نہ کر دیا جائے۔ ایک پرانے گاندھی وادی نے بتایا کہ جب وہ نوجوان تھے، وہ کھادی کی ایک کانگریسی دکان پر کپڑا خریدنے گئے۔ دکان والے نے پوچھا : ہاتھ کھادی یا مل کھادی۔ یعنی ہاتھ سے بنے ہوئے سوت کی کھادی یا مل میں تیار کئے ہوئے سوت کی کھادی۔ مذکورہ نوجوان کو اس سے بہت دھکا لگا ۔ انھوں نے مہاتما گاندھی کو خط لکھا کہ میرے ساتھ ایسا ایسا واقعہ گزرا۔ کیا کھادی بھی دو کھادی ہوتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader