بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 461
By Maulana Wahiduddin Khan
قائم کئے۔ انھوں نے اس علاقہ کے لوگوں کو پہلی بار علم سے آشنا کیا۔ تاہم ان مسیحی مبلغوں کے اثرات سے منی پور اور ارونا چل بچا رہا۔ ۴ جنوری کی شام کو کھانے کی میز پر کچھ اعلیٰ تعلیم یافتہ صاحبان تھے۔ وہ گاندھی واد میں یقین رکھتے تھے۔ ڈاکٹر جینٹ پٹیل (ممبر پلاننگ کمیشن ) نے کہا کہ ساری سمیاؤں کا حل گاندھی واد میں ہے۔ گاندھی کے وچاروں کو دیش میں لانا ہوگا، تبھی دیش کا بھلا ہو سکتا ہے۔ میں نے کہا کہ ۱۹۷۲ کے بعد مہاتما گاندھی کے اپنے بنائے ہوئے ساتھی ان سے پھر گئے ۔ ۱۹۷۳ سے پہلے جو گاندھی ہیرو بنا ہوا تھا، وہ ۱۹۷۳ کے بعد خود اپنے ملک میں زیر و ہو گیا۔ چنانچہ اس وقت مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ اب میری کون سنے گا۔ ان کے اسی جملہ کو پیارے لال نے اپنی کتاب کا ٹائٹل بنایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ۱۹۷۲ کے بعد انڈیا میں خود گاندھی جی اپنے وچاروں کو عمل کی صورت نہ دے سکے۔ پھر اب کون ہوگا جو ان کو عملاً قائم کرے۔ کیا آپ کہیں سے ایک سپر گاندھی لا سکتے ہیں۔ بمبئی کے پروفیسر روندر کیلئے کر بھی اس گفتگو میں شریک تھے۔ پھر میں نے کہا کہ وہ مقام جہاں گاندھی واد فیل ہوا ہے وہ لار ڈایکٹن کے الفاظ میں انسان کی یہ کمزوری ہے کہ طاقت اور اقتدار آدمی کو بگاڑ دیتا ہے : Power currupts and absolute power corrupts absolutely. کانگریس کے لیڈروں کے بگڑنے کا اصل سبب یہی تھا۔ اب ہمیں اس انسانی کمزوری کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ہمارے خوابوں کا نیا ہندوستان بننے والا نہیں۔ ایک مجلس میں یہ بحث تھی کہ سیاسی استحکام کیسے حاصل کریں۔ (how to attain political stability) مختلف لوگوں نے مختلف باتیں کہیں ۔ میں نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد کوئی بھی پارٹی اپنے حق میں نئی سیاسی روایات قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ کانگریس بعد از آزادی کار کردگی پر نہ زندہ نہیں تھی بلکہ قبل از آزاد ی روایات کے سہارے زندہ تھی۔ کانگریس کا سارا سرمایہ جد و جہد آزادی کے دور کی روایات تھیں۔ یہ سرمایہ اب اپنی آخری حد پر پہنچ کر ختم ہو گیا ۔ بھاجپا کے پاس کوئی مثبت پیغام نہ تھا۔ اس نے دو بڑے فرقوں کے درمیان چھپی ہوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader