بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 462
By Maulana Wahiduddin Khan
تاریخی نفرت کو استعمال کیا، مگر اس کی بھی ایک حد تھی۔ ٦ دسمبر ۱۹۹۳ء کو خود اسی کے ہاتھ اس کی آخری حد آگئی۔ اب ملک میں ایک قسم کا سیاسی خلا ہے، اور ملک کسی ایسے نئے گروہ کا منتظر ہے جو ظاہر ہو اور دوبارہ ملک کو سیاسی استحکام دے سکے۔ نارتھ ایسٹ انڈیا سات مختلف ریاستوں پر مشتمل ہے۔ اس لئے ان کو سات بہنیں کہا جاتا ہے۔ دھنک میں چونکہ سات الگ الگ رنگ ہوتے ہیں، اس لئے ان ریاستوں کے مجموعہ کو زمینی دھنک کا نام بھی دیا گیا ہے : a rainbow on the ground. ان سات ریاستوں میں آپ گھومیں پھریں تو آپ کو ہر طرف وہاں مسائل ہی مسائل دکھائی دیں گے۔ مگر الفاظ کی دنیا میں اس کی تصویریں بالکل برعکس دکھائی دیتی ہیں۔ جو لوگ صرف الفاظ کو دیکھ کر حقیقت کے بارہ میں رائے قائم کریں وہ ہمیشہ اصل حقیقت کے ادراک سے محروم رہیں گے۔ ۵ جنوری کو صبح ۳ بجے نیند کھلی۔ مجھے ٹی وی کا کوئی شوق نہیں۔ مگر میں نے سوچا کہ دیکھیں کیا رات کو بھی ٹی وی کے پروگرام آتے ہیں۔ میں نے یہ جاننے کے لئے ٹی وی سیٹ کھولا تو اس وقت کئی پروگرام آرہے تھے۔ ایک چینل سے کھیل کا پروگرام آرہا تھا۔ دوسرے چینل پر غالباً کوئی انگریزی فلم دکھائی جا رہی تھی۔ اس کا جو منظر میرے سامنے آیا اس میں ایک مرد اور ایک عورت کھڑے ہوئے تھے۔ عورت اپنے اتارے ہوئے کپڑے کو پہن رہی تھی۔ اس نے اپنے کھلے جسم پر مختصر لباس پہنا اور مرد کی ناک پر پستول رکھ کر اسے گولی مار دی۔ ہندوستان میں کچھ لوگ یہ لکھنے اور بولنے میں مشغول ہیں کہ ہندو ایک منظم سازش کے تحت ہمارے ملی تشخص کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ یہ بے حد سادہ لوحی کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں ہندو اور مسلمان دونوں کے روایتی تشخص کو مٹانے کا کام سٹلائٹ ٹی وی کر رہا ہے جس کی زد سے اپنے آپ کو بچانا دونوں میں سے کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔ یہ ٹی وی رات دن کھیل کود، مار دھاڑ اور سیکس کے مناظر دکھاتا رہتا ہے۔ اس کی ہمہ گیری کا یہ حال ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader