Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 465

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کا ڈرافٹ بھی رد ہو گیا۔ آخر میں طے ہوا کہ اجلاس کے دوران جو مختلف رائیں سامنے آئی ہیں، ان کا خلاصہ تیار کیا جائے اور اس کو اشاعت کے لئے دے دیا جائے۔ دو آدمیوں نے اس کا ڈرافٹ تیار کیا۔ مگر وہ بھی منظور نہ ہو سکا۔ آخر کار یہ سمینار اس طرح ختم ہوا کہ اس کی طرف سے کوئی متفقہ چیز پریس میں اشاعت کے لئے نہ دی جا سکی۔ میں بے حد غم زدہ حالت میں یہ تمام بحثیں سن رہا تھا۔ آخر میں میں نے کہا کہ کسی عجیب بات ہے کہ ایک سنگین قومی مسئلہ پر پورے ملک کے دماغ اکٹھا ہوئے ۔ تین دن کے بحث و مباحثہ کے بعد اب وہ یہاں سے واپس جا رہے ہیں۔ اور حالت یہ ہے کہ ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ ایک متفقہ بیان تیار کر کے کل کے اخبار میں دے دیتے تاکہ لوگ کم سے کم یہ جان لیں کہ ہم نے انھیں کیا پیغام دیا ہے۔ ۶ جنوری کی شام کو واپسی تھی۔ ہوٹل سے ایرپورٹ تک کے سفر میں دو صاحبان کا ساتھ تھا۔ پرتاپ سنگھ اور عبدل بھائی۔ ایرپورٹ پر دیر تک ان لوگوں سے گفتگو ہوئی۔ پرتاپ سنگھ ایک سیاسی آدمی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام لیڈر کرپٹ ہیں، خواہ ایک پارٹی کے ہوں یا دوسری پارٹی کے۔ میں نے کہا کہ پالی ٹیکس میں ہمیشہ کرپشن رہتا ہے۔ البتہ اس کو ایک حد کے اندر رہنا چاہئے۔ ہندوستان کی مصیبت یہ ہے کہ یہاں کا کورپشن حد سے باہر چلا گیا ہے۔ عبدل بھائی مسلمانوں میں نکاح و طلاق کے مسائل سے بہت پریشان تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سلسلہ میں کچھ اصلاحی قانون بننا چاہئے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ میں اصل مسئلہ قانون کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم بہت کم ہے۔ تعلیم یافتہ آدمی ہی جانتا ہے کہ کیسے جینا چاہئے۔ اس لئے اگر آپ اصلاح چاہتے ہیں تو قوم کو تعلیم یافتہ بنائیے، اس کے بعد تمام مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے۔ ۶ جنوری ۱۹۹۵ء کو گوہاٹی سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ یہ سفر انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۸۹۰ کے ذریعہ طے ہوا۔ گوہاٹی سے واپسی میں جہاز کے نیچے بادلوں کی گہری چادر نہیں تھی۔ ہمارا جہاز بنگلہ دیش کے اوپر سے اڑتے ہوئے ہندوستانی علاقہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page