بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 464
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ اس معاملہ میں یہی صحیح ترین بات ہے اور یہی واحد قابل عمل صورت ہے۔ اس معاملہ میں، ہمیں پریکٹیکل بننا چاہئے نہ کہ آئیڈیلسٹ۔ عجیب بات ہے کہ ذاتی انٹرسٹ کا معاملہ ہو تو ہر آدمی پریکٹیکل بن جاتا ہے۔ مگر جب ملک اور سماج کے بارہ میں گفتگو ہو تو ہر آدمی آئیڈیلم کی بات کرنے لگتا ہے۔ اسی دو طرفہ معیار نے سارے مسائل پیدا کئے ہیں۔ سیمنار کا مقصد ان لفظوں میں بتایا گیا تھا کہ ـــــ نارتھ ایسٹ اور ملک کے بقیہ حصوں کے دانشوروں کو باہمی تبادلہ خیال کا موقع دینا : to facilitate interaction between the intellectuals of the North-East and the rest of the country. مگر میرا تجربہ ہے کہ برصغیر ہند کے دانشوروں کا تبادلہ خیال ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں سننے اور ماننے کا مزاج نہیں۔ ہر ایک میں صرف سنانے اور منوانے کا مزاج ہے۔ یہاں کا ہر آدمی اعجاب کل ذی رأی بر آیہ کا مصداق ہے۔ ایسے لوگوں کے درمیان تبادلہ خیال کبھی کسی مثبت نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا۔ گوہاٹی کا یہ انٹرنیشنل سیمنار بڑی امیدوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ اس کا اہتمام ناگالینڈ گاندھی آشرم کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف اداروں نے اس کے ساتھ تعاون کیا۔ خاص طور پر حسب ذیل ادارہ نے : North-East Institute of Bank Management (NEIBM) اس کا بنیادی موضوع تھا : نارتھ ایسٹ انڈیا اور اکیسویں صدی ۔ اس کے چھ ذیلی موضوعات مقرر کئے گئے تھے۔ ان میں سے ایک موضوع یہ تھا : North-East, a rainbow on the ground Religious and ethnic pluralism—amity through diversity -a future perspective. آخری اجلاس میں منتظمین کی طرف سے ایک رزولیوشن کا ڈرافٹ پیش کیا گیا۔ اس پر بحث ہوئی۔ یہاں تک کہ اس کو رد کر دیا گیا۔ پھر یہ طے ہوا کہ ایک اسٹیٹمنٹ جاری کیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader