بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 469
By Maulana Wahiduddin Khan
میرٹھ کا سفر ۱۱ اپریل ۱۹۹۶ء کو دہلی سے میرٹھ (سردھنہ) کا سفر ہوا۔ یہ سفر بذریعہ کار تین گھنٹہ میں طے ہوا۔ میرے ساتھ مولا نا محمد عرفان قاسمی اور حکیم محمد کلیم صاحب شریک سفر تھے۔ دہلی کی سڑکوں پر چلتے ہوۓ جگہ جگہ دکھائی دیا کہ صفائی کا کوئی اہتمام نہیں۔ مجھے یاد آیا کہ یکم مارچ ۱۹۹۶ء کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے تمام متعلق محکموں کے نام حکم جاری کیا تھا کہ وہ دہلی میں صفائی کا اعلیٰ اہتمام کریں اور اس کو خوب صورت شہر بنائیں۔ (ملاحظہ ہو اقتباس ذیل) مگر دہلی آج بھی مجھے ویسی ہی نظر آئی جیسی وہ عدالت عالیہ کے اس حکم سے پہلے تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام اور سرکاری عملہ دونوں میں قانون کی تعمیل کا جذبہ موجود نہیں۔ پھر حکم جاری کرنے سے کیا فائدہ۔ عدالت عالیہ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ گھروں گھروں میں پلاسٹک کی تھیلیاں فراہم کی جائیں۔ لوگ ان تھیلیوں میں اپنے گھر کا کچرا ڈال کر اسے سڑک پر رکھ دیں اور صبح کو صفائی کر مچاری اسے اٹھا لیں۔ اس طرح سڑکوں پر کچرا پھیلنا بند ہو جائے گا۔ میں جس کالونی میں رہتا ہوں اس کی سوسائٹی نے ایک سال پہلے اپنی کالونی کے لیے یہی فیصلہ کیا تھا۔ چنانچہ گھر والے اپنا کچرا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader