بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 475
By Maulana Wahiduddin Khan
راستہ میں ہمیں میرٹھ سے گزرنا تھا۔ یہاں پہنچ کر ہم لوگ کچھ دیر کے لیے ٹھہرے۔ اور میرٹھ کے کچھ افراد سے ملاقاتیں کیں۔ میرٹھ کے محمد یا مین صاحب کونسلر (Tel. 24610) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے بارہ میں کچھ مسلمان بدظن ہیں اور وہ آپ کو بھاچا کا آدمی سمجھتے ہیں۔ مثلاً آپ لکھنؤ کے ایک بھاچائی مسلمان کی دعوت پر لکھنو گئے اور وہاں ان کے زیرِ انتظام گنگا پرشاد میموریل ہال میں تقریر کی۔ یہ ۱۹ اپریل ۱۹۹۵ کی بات ہے۔ محمد یا مین صاحب نے گفتگو کے دوران بتایا کہ اتفاق سے اس وقت وہ لکھنؤ میں تھے اور وہ گنگا پرشاد میموریل ہال کے مذکورہ پروگرام میں شریک ہوئے۔ میں نے کہا کہ پھر تو فیصلہ بہت آسان ہے، آپ بتائیے کہ وہاں میں نے اپنی تقریر میں کیا کہا۔ انھوں نے کہا کہ شروع سے آخر تک سب آپ نے قرآن و حدیث کی باتیں کہیں۔ انھوں نے یہ بھی اقرار کیا کہ وہاں اسٹیج پر نہ بھاچا کا بینر تھا اور نہ اس کا اور کوئی نشان موجود تھا۔ میں نے کہا کہ پھر یہ تو خوش ہونے کی بات ہے کہ وہاں کے اسٹیج سے لوگوں کے سامنے قرآن و حدیث کی بات پیش کی گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں مشرکوں کے بلانے پر ان کے یہاں گئے ۔ مدینہ میں آپ یہود کے بلانے پر ان کے پاس گئے۔ یہی ہمیشہ علما کا طریقہ رہا ہے۔ اسلام ایک دعوت ہے۔ اور جہاں اور جس اسٹیج پر بھی اسلام کی بات کہنے کا موقع ملے گا وہاں اس کو پیش کیا جائے گا۔ یہ ایک قابلِ قدر بات ہے نہ کہ قابل اعتراض بات۔ محمد یا مین صاحب نے میلہ نوچندی میگزین (۱۹۹۳) کی ایک کاپی دی۔ اس میں میرٹھ کے بارہ میں کئی مضامین تھے۔ مگر سب کے سب ادبی زبان میں تھے۔ کوئی بات محمد انداز میں نہ تھی۔ اس لیے میں ان سے زیادہ فائدہ حاصل نہ کر سکا۔ یہ صرف ایک میگزین کی بات نہیں ۔ یہی اردو زبان کا عام مزاج ہے۔ بدقسمتی سے اردو زبان کا مزاج اقبال جیسے شاعروں اور ابوالکلام آزاد جیسے ادیبوں نے بنایا ہے۔ یہ لوگ لفظی اور حقیقت نگاری کا فرق نہیں سمجھتے تھے، چنانچہ انھوں نے حقیقت کو بھی لفظی گل کاری کے انداز میں بیان کیا۔ یہی روایت اردو زبان میں عام طور پر قائم ہو گئی۔ ایک جدید تعلیم یافتہ شخص نے کہا : الرساله پہلا پرچہ ہے جو اردو زبان میں سائنٹفک اسلوب کو رواج دے رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader