Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 476

By Maulana Wahiduddin Khan

اردو کا مسئلہ غلط رول ماڈل کا مسئلہ ہے۔ انگریزی زبان میں نیوٹن سے پہلے شاعروں اور ادیبوں کو رول ماڈل کی حیثیت حاصل تھی۔ اس کے بعد جب سائنس کا غلبہ ہوا تو سائنس داں رول ماڈل بن گئے ۔ اس طرح انگریزی زبان ادبی اسلوب کے دور سے نکل کر سائنسی اسلوب کے دور میں داخل ہوئی ۔ اردو میں اس قسم کا انقلابی عمل پیش نہیں آیا۔ کچھ شاعر اور ادیب جو ایک بار اردو میں رول ماڈل کی حیثیت اختیار کر گئے تھے ، سائنسی انقلاب جیسا کوئی واقعہ پیش نہ آنے کی بنا پر، آج بھی وہی اشخاص لوگوں کا رول ماڈل بنے ہوئے ہیں۔ اس صورت حال کو بدلے بغیر اردو کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ تقریباً تین گھنٹہ سفر کرنے کے بعد ہم لوگ سردھنہ پہنچے جو کہ ضلع میرٹھ کا ایک قصبہ ہے۔ سب سے پہلے ہماری گاڑی تحصیل والی مسجد پر رکی۔ یہاں عصر کی نماز تیار تھی۔ چنانچہ یہاں عصر کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھی گئی۔ یہ ایک چھوٹی مسجد ہے جو قصبہ کے بیرونی حصہ میں واقع ہے پوچھنے پر بتایا گیا کہ سردھنہ میں ۳۶ مسجدیں ہیں ۔ کسی نئی بستی میں داخل ہونے کا یہی اسلامی طریقہ ہے ۔ اگر وقت ہو گیا ہو تو پہلے مسجد میں داخل ہو کر مقامی مسلمانوں کے ساتھ باجماعت نماز ادا کی جائے ۔ اور اگر نماز کا وقت نہیں ہے تو دو رکعت سنت پڑھ کر اپنے لیے اور بستی والوں کے لیے دعا کریں ، اس کے بعد بستی کے اندر جائیں۔ نماز عصر سے فراغت کے بعد ہم لوگ روانہ ہو کر جناب تسلیم احمد خان ایڈووکیٹ کی رہائش گاہ پہنچے جہاں مجھے قیام کرنا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری پہلی ملاقات 1991ء میں ہوئی تھی ۔ اس وقت سے بار بار وہ مجھے سردھنہ آنے کی دعوت دے رہے تھے۔ پانچ سال بعد اب اس کی تکمیل ہوئی ۔ یہاں کئی لوگ جمع ہو گئے ۔ دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آج کل ہر انسان پریشانی میں ہے۔ اس کا سبب کیا ہے ۔ میں خاموش تھا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا : اس لیے کہ وہ پڑوسی کو خوشی دیکھنا نہیں چاہتا۔ تسلیم احمد صاحب کے اندر ایک عجیب صفت ہے ۔ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں یا سنتے ہیں وہ ان کو مستقل طور پر یاد ہو جاتا ہے۔ سردھنہ کے ہزاروں آدمیوں کے نام ان کو ولدیت کے ساتھ یاد ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page