Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 477

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قسم کے حافظہ کو انگریزی میں فوٹو گرافک میموری کہا جاتا ہے۔ ایک صاحب سے ایک بار بات ہو رہی تھی۔ گفتگو کے دوران مولانا آزاد کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ ان کو تو فوٹو گرافک میموری حاصل تھی۔ انھوں نے میری تصحیح کرتے ہوئے کہا : فوٹو جنک میموری۔ انھوں نے انگلش لٹریچر سے فرسٹ کلاس ایم اسے کیا تھا۔ وہ سمجھے کہ وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہی صحیح ہے میں خاموش رہا۔ چند دن کے بعد انھوں نے ٹیلی فون پر بتایا کہ تصویری حافظہ کے لیے فوٹو جنک کا لفظ نہیں ہے۔ اس کے لیے فوٹو گرافک میموری ہی ہے، جیسا کہ آپ نے کہا تھا۔ "انگریزی داں" طبقہ میں اس طرح کا اعتراف عام ہے۔ لیکن "عربی داں طبقہ" میں یہ اعتراف اتنا کم ہے کہ کم از کم میں نے ابھی تک اس کا تجربہ نہیں کیا۔ تسلیم احمد خان ایڈوکیٹ کی یادداشت ایسی ہے کہ ملاقات ہوتے ہی انھوں نے کمپیوٹر کی طرح ہر بات تاریخ وار بتانا شروع کر دیا ــــــ ۱۹۸۷ سے میں مسلسل الرسالہ کا قاری ہوں۔ آپ سے میری پہلی ملاقات ۵ مئی ۱۹۹۱ کو دہلی میں ہوئی تھی ۔ دوسری ملاقات پونہ میں ۳ اکتوبر ۱۹۹۲ کو ہوئی۔ تیسری ملاقات ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۴ کو دہلی میں ہوئی۔ اس ملاقات میں آپ نے سر دھنہ آنے کے لیے ۱۱ نومبر ۱۹۹۴ کی تاریخ مقرر کر دی تھی ۔ مگر چند دن بعد آپ کا خط آگیا کہ آپ اس تاریخ کو نہ آسکیں گے۔ انھوں نے اور بھی کئی باتیں یاد دلائیں ۔ مثلاً انھوں نے کہا کہ پونہ کی مجلس میں آپ سے سوال کیا گیا تھا کہ لاتور کے علاقہ میں جو زلزلہ آیا ہے ، کیا وہ عذاب الہی ہے۔ اس کے جواب میں آپ نے کہا کہ وہ عذاب نہیں ہے بلکہ تنبیہہ ہے۔ شرعی اصطلاح میں عذاب آنے کے لیے اہل حق کی ہجرت شرط ہے۔ مشترک آبادی میں کبھی عذاب متأصل نہیں آتا۔ مغرب کی نماز قریب کی مسجد میں پڑھی گئی۔ اس کا نام مسجد کره نوابان ہے۔ بوڑھے امام صاحب نے یہ آیت تلاوت کی : والسماء بنيناها بأيد وإنا لموسعون (الذاريات ،۴۷) اس آیت میں پھیلتی ہوئی کائنات کی فلکیاتی حقیقت کی طرف متوجہ کیا گیا ہے (تذکیر القرآن ۳۰/۲-۶۲۹) تاہم اس میں ایک بالواسطہ اشارہ اس طرف بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو توسیع پسند ہے نہ کہ جمود ۔ مگر اس توسیع سے مراد سیاسی یا جغرافیائی توسیع نہیں ہے بلکہ فکری توسیع

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page