بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 482
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے ہوتی ہے ۔ دنیوی نعمت کو پا کر آدمی کے اندر ناز کی کیفیت پیدا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کے اندر مسئولیت کا احساس مزید اضافہ کے ساتھ جاگنا چاہیے ۔ قرآن کی اس آیت سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ دولت کا جو معاملہ ہے وہی اقتدار کا معاملہ بھی ہے۔ اقتدار بھی بطور نوازش نہیں ملتا بلکہ بطور ابتلا ملتا ہے۔ اگر آج آپ کے پاس دولت ہے، اور کل دوسرا آدمی دولت مند ہو جائے تو آپ اس کو غاصب قرار دے کر اس کے خلاف چیخ پکار نہیں کرتے۔ آپ سمجھتے ہیں کہ میرے پاس بھی دولت خدا کی طرف سے آئی تھی اور اس کے پاس بھی دولت خدا کی طرف سے آئی ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ اقتدار کا بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار یا زمینی خلافت کسی قوم کا ابدی حق نہیں، جس طرح دولت کسی گروہ کا ابدی حق نہیں ۔ اللہ تعالیٰ مصلحت امتحان کے تحت خلافت ارضی کبھی ایک قوم کو دیتا ہے اور کبھی دوسری قوم کو۔ سیاسی اقتدار بھی بہت سے امتحانی پرچوں میں سے ایک پرچہ ہے۔ جس طرح دوسرے پرچے باری باری سب کو دیے جاتے ہیں، اسی طرح سیاسی پرچہ بھی ایک کے بعد دوسرے کو ملتا ہے، اور اسی طرح قیامت تک چلتا رہے گا ۔ یہ تبدیلی کسی صلیبی یا صہیونی سازش کے تحت نہیں ہوتی بلکہ براہ راست خدائی قانون کے تحت ہوتی ہے (آل عمران (۲۶) اس بنا پر انسان کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اس کو قبول کرے ۔ اس کا تقاضا ہے کہ خلافت ارضی جب ایک قوم سے دوسری قوم کی طرف منتقل ہو تو محروم گروہ ایسا نہ کرے کہ اس کو سازش اور غصب کا معاملہ قرار دے کر اس کے خلاف ہنگامہ آرائی شروع کر دے ۔ ایسا کرنا محرومی پر ہلاکت کے اضافہ کے ہم معنی ہوگا۔ اس کے بجائے محروم گروہ کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اس کو خدا کا فیصلہ مان کر اس پر راضی ہو جائے۔ اس معاملہ میں خدائی فیصلہ کو مان لینا محروم قوم کے لیے عبادت کے ہم معنی ہو گا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر حقیقت پسندی پیدا ہوگی۔ اس کے اندر مثبت فکر جاگے گا ۔ وہ اپنی کمزوریوں کو دور کرنے میں لگ جائے گا ۔ اس کے افراد سیاست کے سواد دوسرے خالی میدانوں میں سرگرم عمل ہو جائیں گے ۔ اس کی یہ روش عین ممکن ہے کہ خدا کی رحمت کو دوبارہ متوجہ کرے اور دوبارہ اس کے حق میں سیاسی اقتدار کا فیصلہ کر دیا جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader