بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 483
By Maulana Wahiduddin Khan
سر دھنہ کے سید برہان الدین صاحب (ایم اے معاشیات) کی عمر اب 65 سال ہو چکی ہے۔ انھوں نے پاکستان سمیت بہت سے ملکوں کا سفر کیا ہے۔ انھوں نے اپنے مشاہدات بتاتے ہوئے کہا: مسلمانوں کو نہ یہود سے خطرہ ہے، نہ عیسائیوں سے اور نہ ہندوئوں سے، مسلمانوں کو خطرہ صرف اپنی ذات سے ہے۔ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا گلا کاٹنے کے لیے تیار رہتا ہے۔ یہی موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ مجلس میں کئی لوگ موجود تھے۔ میں نے سوال کیا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی خاص کمزوری کیا ہے جس نے انھیں دوسری قوموں سے پیچھے پیچھے کر دیا۔ مولانا محمد رضوان قاسمی نے کہا: "میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب شعور کی کمی ہے۔ یہ دور مقابلہ کا دور ہے۔ مگر مسلمان اپنی بے شعوری کی وجہ سے اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ وہ بس دوسروں کی شکایت کرنے میں اپنا وقت ضائع کرتے رہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں زیادہ تر غیر مسلموں کی باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات آپ تجربہ کے تحت نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ کسی سے سن کر کہہ رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا کہ آپ اپنے پاس سے کوئی رسالہ نکالیے۔ یہ بات خود ان کے گھر پر ہو رہی تھی۔ چنانچہ وہ گھر کے اندر سے الرسالہ کا شمارہ ستمبر 1991 لے کر آئے۔ اس کی ورق گردانی کی تو اس میں غیر مسلموں کے دو حوالے تھے۔ مثلاً صفحہ پر پروفیسر مارگولیتھ کا وہ حوالہ جس میں انھوں نے اصحاب رسول کو ہیروئوں کی قوم کہا ہے۔ میں نے کہا کہ الرسالہ میں غیر مسلموں کے حوالے غیر مسلموں کے خیالات کی تبلیغ کے لیے نہیں ہوتے، وہ اسلام کی صداقت بیان کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ عربی زبان کا ایک مثل ہے کہ فضیلت وہ ہے جس کی گواہی دشمن دیں (الفضل ما شهدت به الاعداء) میں نے کہا کہ اس اعتبار سے غیر مسلموں کا حوالہ تو ایک خوبی کی بات ہے، اور ماضی سے لے کر حال تک کے تمام علماء اسلام اس قسم کے حوالے دیتے رہے ہیں۔ پھر یہ تو خوشی کی بات ہے، نہ یہ کہ اس پر اعتراض کیا جائے۔ سر دھنہ میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 30 ہزار ہے۔ مگر ان کا اپنا کوئی قابل ذکر تعلیمی ادارہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader