Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 484

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں۔ جب کہ جینیوں کی تعداد صرف چار ہزار ہے۔ اس کے باوجود وہ تعمیری و تعلیمی میدان میں بہت آگے ہیں، یہاں ان کے تین تعلیمی ادارے چل رہے ہیں۔ لڑکیوں کا انٹر کالج، لڑکوں کا انٹر کالج ، اور جونیئر ہائی اسکول ۔ اس کے علاوہ جین ہاسپٹل ہے جس میں آپریشن وغیرہ کا معقول انتظام ہے۔ ان حضرات کی باقاعدہ ایک سوسائٹی ” جین ملن سوسائٹی“ کے نام سے ہے جس کے تحت یہ تمام تعمیری کام انجام دیے جاتے ہیں۔ یہی حال عیسائی حضرات کا ہے وہ بھی تعلیمی میدان میں بہت آگے ہیں۔ ان کا تعلیمی معیار بھی کافی اونچا ہے۔ جین فرقہ اور عیسائی فرقہ کے خلاف ملک میں کوئی تعصب کی فضا نہیں۔ جبکہ مسلمان شکایت کرتے ہیں کہ ان کے خلاف بڑے پیمانے پر تعصب پایا جاتا ہے۔ اس کی کم از کم ایک وجہ یہ ہے کہ جین اور عیسائی جہاں ہیں وہاں وہ لوگوں کے لیے نفع بخش بن کر رہتے ہیں۔ مسلمانوں میں عام طور پر یہ مزاج نہیں پایا جاتا۔ دونوں کے معاملے میں فرق کا اصل سبب یہی ہے۔ میرٹھ کے ایک گاؤں کا قصہ مجھے معلوم ہے۔ یہاں ایک خاندان ہے، اس کا مزاج یہ ہے کہ نہ کسی سے کچھ لو اور نہ کسی کو کچھ دو۔ بس اپنے کام سے کام رکھو ۔ ان لوگوں نے اپنی زمینوں میں محنت کر کے کافی پیسہ کمایا۔ مزید زمینیں خریدیں ۔ نیا مکان بنایا۔ بستی میں ان کی حیثیت سب سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ گاؤں کے ماحول میں وہ شہر کی طرح رہنے لگے۔ اس کے نتیجہ میں گاؤں والوں میں حسد کا جذبہ پیدا ہوا۔ اگرچہ وہ کسی کو تکلیف نہیں دیتے تھے مگر دوسرے انھیں تکلیف دینے کے درپے ہو گئے۔ پہلے یہ کیا کہ ان کے ٹیوب ویل سے موٹر نکال لے گئے۔ ان کا ٹریکٹر غائب کر دیا۔ اس طرح کی حرکتوں سے ان کا کچھ نہیں بگڑا تو اب یہ کیا کہ خود اپنے اندر کے ایک بوڑھے کو قتل کر کے مذکورہ خاندان کے تمام لوگوں کو فوجداری کیس میں پھنسا دیا۔ حتیٰ کہ اس خاندان کے ایک ہونہار نوجوان کو قتل کر ڈالا۔ وغیرہ ۔ یہ بلاشبہ کمینہ پن ہے۔ مگر اس طرح کے واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی کو اپنی تعمیر کے ساتھ ایک اور تدبیر یہ کرنا چاہیے کہ وہ شر پسندوں کے شر سے کس طرح بچے ۔ وہ تدبیر یہ ہے کہ آدمی جہاں رہے وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بن کر رہے۔ دوسروں کو فائدہ پہنچا کر وہ انھیں اپنا احسان مند بنائے رکھے۔ لوگوں کے شر سے بچنے کا یہ سب سے زیادہ آسان اور موثر طریقہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page