Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 486

By Maulana Wahiduddin Khan

اتصال ہے۔ دعا گویا خزانہ قدرت تک ایک انسان کی رسائی ہے۔ دعا جب اپنے کمال پر پہنچتی ہے تو انسان کا سینہ تجلیات الہی کا ہبط بن جاتا ہے۔ یہ دعا جب وجود میں آتی ہے تو کسی انسان کے لیے وہ لمحہ آجاتا ہے جس کی بابت حضرت مسیح نے فرمایا : مانگو تو پاؤ گے ، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمھارے واسطے کھولا جائے گا۔ ایک صاحب نے اپنا قصہ بتایا کہ سڑک پر میں ایک سواری کی زد میں آکر گر پڑا اور بیہوش ہوگیا۔ اٹھا تو میں اسپتال میں تھا۔ معلوم ہوا کہ کچھ ہندوؤں نے مجھ کو زخمی حالت میں دیکھا تو فوراً اپنی گاڑی میں لٹا کر انھوں نے مجھے اسپتال پہنچایا اور میری ہر طرح مدد کی۔ یہ قصہ بتا کر انھوں نے کہا : انسانیت ابھی زندہ ہے۔ شرپسندوں میں کچھ خیر پسند بھی موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ بہت سے مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ وہ جب ان واقعات کو بیان کرتے ہیں تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس کا مطلب بظاہر یہ ہوتا ہے کہ بروں کی بھیڑ میں کچھ اچھے افراد بھی ہیں۔ مگر یہ صحیح بات نہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کی بنا پر ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ غیر مسلم سب ہمارے دشمن ہو گئے ہیں۔ اگر کوئی دشمن نہیں ہے تو وہ استثنا ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ ہر آدمی فطرت کے اعتبار سے خیر پسند ہے۔ ہر ایک کے اندر انسانیت موجود ہے۔ فسادات کا سبب دشمنی نہیں۔ فسادات کا سبب وقتی اشتعال ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ کچھ جذباتی قسم کے لوگ اپنی کسی نادانی سے ایک بھیڑ کے نفس امارہ کو جگا دیتے ہیں۔ اور وہ بھڑک کر فساد پر اتر آتے ہیں۔ اگر ہم اپنے جذباتی لوگوں میں صبر وتحمل کی صفت پیدا کر دیں تو اس ملک سے ہمیشہ کے لیے فسادات کا خاتمہ ہو جائے۔ اور ہر آدمی خیر پسند دکھائی دینے لگے۔ ایک نوجوان نے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے۔ میں نے اس کی ڈائری میں حسب ذیل نصیحت لکھ دی : زندگی کار استہ ہموار راستہ نہیں۔ یہاں اونچ نیچ دونوں ہی آتے ہیں۔ کامیاب وہ ہے جو اتار چڑھاؤ کو دیکھ کر ہمت نہ ہارے، جو ہر حال میں یکساں عزم کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ۔ ۱۱ اپریل کو عشا کی نماز سردھنہ کی جامع مسجد میں پڑھی۔ یہاں نماز کے بعد تقریر کا پروگرام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page