بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 487
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا، نماز کے بعد بیشتر لوگ ٹھہر گئے۔ میں نے اپنی تقریر میں نماز کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی خاص طور پر یہ بنایا کہ نماز کی اصل اسپرٹ کیا ہے اور ملت کی تعمیر میں اس کا رول کیا ہے۔ تقریر کے بعد دیر تک مصافحہ ہوا۔ میں سمجھتا تھا کہ مصافحہ کے بعد لوگ چلے جائیں گے۔ مگر کافی لوگ اس کے بعد دوبارہ بیٹھ گئے۔ چنانچہ سوال و جواب کی صورت میں دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ اسی دوران کئی اخبار کے رپورٹر آگئے ۔ ان میں ہندی اخبار کے رپورٹر بھی تھے اور اردو کے رپورٹر بھی ۔ آخر میں ان کے سوالات کا جواب دیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ زندگی کا ایک سادہ اصول یہ ہے کہ جتنی محنت اتنی کامیابی ۔ یہ اصول اتنا عام ہے کہ اس کا تعلق زندگی کے تمام شعبوں سے ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ سب سے بڑی اخلاقی صفت اپنے خلاف سوچنا ہے ۔ اور یہی وہ چیز ہے جو موجودہ زمانے کے مسلم دانشوروں میں سرے سے موجود نہیں۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۶ کی شام کو یہاں میں نے جو تقریر کی تھی، اس کی رپورٹ اس علاقہ کے اخباروں میں بھی چھپی۔ اس وقت کچھ اخباروں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ جنھوں نے تقریر کے آخر میں سوالات کیے ۔ چوں کہ ۲۷ اپریل کو اور پھر ۳، ۷ مئی ۱۹۹۶ کو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے الیکشن ہونے والے ہیں، اس لیے الیکشن کی بابت بھی سوالات کیے گئے۔ اگلے صفحہ پر ہندی روزنامہ امر اجالا (۱۲ اپریل ۱۹۹۶) کی شائع شدہ رپورٹ نقل کی جارہی ہے۔ ایک مجلس تھی ۔ میں زیادہ تر لوگوں کی باتیں سن رہا تھا۔ ہر ایک سے سوال کر کے اس کے اپنے میدان کے تجربات پوچھ رہا تھا۔ اس درمیان میں محمد حنیف صاحب نے سوال کیا کہ الرساله آپ اکیلے ہی لکھتے ہیں، یا اور بھی کچھ لکھنے والے لوگ ہیں، میں نے جواب دیا کہ میں اکیلا ہی لکھتا ہوں ۔ مگر اس کی تیاری میں بہت لوگ شامل ہیں۔ حتیٰ کہ آپ لوگ بھی اس میں شریک ہیں۔ کیوں کہ جیسا کہ آپ نے دیکھا، میں ہر ایک سے اس کے دائرہ کی معلومات لیتا رہتا ہوں۔ اس طرح میرے پاس بہت سے لوگوں کے تجربات اکٹھا ہو جاتے ہیں اور میں ان کے ذریعہ الرسالہ کو مرتب کرتا رہتا ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ الرساله اگر چہ ایک شخص کے قلم سے لکھا جاتا ہے مگر اس میں تنوع اتنا زیادہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader