بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 489
By Maulana Wahiduddin Khan
خالص ہوا ہے، اور نہ دیکھنے کے لیے فطرت کے آسمانی مناظر۔ موجودہ دنیا میں انسان دو مسئلے کے درمیان ہے۔ اگر تمدنی ترقی حاصل کی جائے تو فطرت کا حسن رخصت ہو جاتا ہے۔ اور اگر فطرت کا ماحول اختیار کیا جائے تو وہ صرف تمدنی ترقیوں سے محرومی کی قیمت پر ہوتا ہے۔ دونوں خوبیاں اپنی کامل اور معیاری صورت میں جنت کے سوا کہیں اور ملنے والی نہیں۔ ۱۲ اپریل کو نمازِ فجر سے فراغت ہوئی تو معلوم ہوا کہ صبح کی چائے جناب محمود علی خان صاحب کے مکان پر ہے۔ یہاں بہت سے لوگ جمع ہو گئے ۔ چنانچہ دیر تک مختلف موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ محمد حنیف ملتانی صاحب نے بتایا کہ ایک بار وہ ٹرین میں سفر کر رہے تھے، راستہ میں نماز کا وقت آگیا۔ انھوں نے جگہ بنا کر نماز ادا کی ۔ ایک ہندو مسافر نے دیکھ کر کہا کہ آپ تو بڑے دھارمک معلوم ہوتے ہیں ۔ انھوں نے جواب دیا کہ آپ بھی تو پورے دھارمک ہیں۔ دیکھیے ، آپ ہر دوار سے گنگا جل لیے چلے آرہے ہیں، اور جب پانی پینا ہوتا ہے تو اسی کو پیتے ہیں۔ اس کے بعد مذہب پر گفتگو ہونے لگی۔ محمد حنیف صاحب نے کہا کہ یہ انسانی فطرت ہے کہ آدمی قیمتی چیز میں سمجھا گوارا انہیں کرتا۔ پھر خدا تو سب سے زیادہ قیمتی ہے، اس میں سمجھا کیسے گوارا ہو سکتا ہے۔ اس طرح مثالوں کے ذریعہ انھوں نے شرک اور توحید کا فرق بتایا۔ اور کہا کہ شرک کا عقیدہ فطرت کے خلاف ہے اور توحید کا عقیدہ عین فطرت کے مطابق ۔ مذکورہ ہندو مسافر نے بڑے دھیان سے سنا اور آخر میں کہا کہ آپ ٹھیک کہتے ہیں۔ اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اختلاط کس طرح بجائے خود اشاعت اسلام کا ذریعہ ہے ، کسی بھی طرح اگر مسلمانوں اور غیرمسلموں میں اختلاط بڑھ جائے تو دعوت کا عمل اپنے آپ جاری ہو جائے گا۔ ۱۹۴۷ء کے بعد میرٹھ میں بار بار فرقہ وارانہ فساد ہوتا رہا ہے۔ سردھنہ اس سے صرف ۲۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر ہے ، مگر یہاں کبھی فرقہ وارانہ فساد نہیں ہوا۔ میں نے لوگوں سے اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader