Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 491

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب سے اس پر گفتگو ہوئی کہ کافر کون ہے۔ میں نے کہا کہ کافر کسی نسلی گروہ کا نام نہیں۔ یہ ایک انفرادی رویہ ہے۔ کافر کے معنی منکر کے ہیں۔ اس سے مراد وہ انسان ہے جو اتمام حجت کے باوجود حق کا انکار کرتا رہے، یہاں تک کہ انکار ہی کی حالت میں اس کا خاتمہ ہو جائے ۔ قرآن (البقرۃ ۱۶۱) میں ہے کہ بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور وہ کافر ہی مر گئے تو وہی وہ لوگ ہیں کہ ان پر اللہ کی لعنت ہے (ان الذین کفروا وماتوا وهم كفار اولئك عليهم لعنة الله الخ) اس سے معلوم ہوا کہ کافر یا منکر وہ شخص ہے جو موت کے آخری وقت تک کافر رہتا ہے۔ اب چوں کہ کوئی انسان کسی کے بارہ میں یہ جان نہیں سکتا کہ اس کا خاتمہ آخر کار کس چیز پر ہوا ہے، یہ وہ چیز ہے جو صرف خدا کو معلوم ہے۔ اس لیے ہمیں یہ حق نہیں کہ پیشگی طور پر ہم کسی کو کافر قرار دے دیں۔ ہمیں دوسروں کو صرف غیر مسلم کہنا ہے۔ یا انسان یا برادران قوم جیسے الفاظ سے انہیں خطاب کرنا ہے۔ اور اس معاملہ کو خدا کے حوالے کر دینا ہے کہ آخری طور پر اس کی موت کس حال میں ہوئی۔ کافر وہ ہے جو خدا کے نزدیک کا فر قرار پائے نہ کہ انسانوں کے نزدیک۔ سردھنہ کا تعارف سب سے پہلے مجھے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کے شمارہ ۲۳ جنوری ۱۹۸۸ کے ذریعہ ہوا۔ اس میں مسٹر شوچی بنسل (Shuchi Bansal) کے قلم سے ایک با تصویر مضمون شائع ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ـــــــــ سردھنہ، بیگم کا مامْن : Sardhana: The Begum's Haven اسی وقت سے یہ خواہش تھی کہ سردھنہ کو دیکھا جائے ۔ مگر ہر کام اپنے مقررہ وقت پر ہوتا ہے۔ چنانچہ اٹھارہ سال کے بعد یہ وقت آیا اور میں سردھنہ کو دیکھنے کی خواہش پوری کر سکا۔ سردھنہ ریلوے لائن پر نہ ہونے کی وجہ سے اگر چہ انڈیا کے سیاحتی نقشہ (ٹورسٹ میپ) پر نہیں ہے۔ تاہم اس کی ایک تاریخی اہمیت ہے۔ پورے ہندوستان سے ہر سال ہزاروں کی تعداد میں عیسائی حضرات اس کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ اس کے بارہ میں اخباروں میں رپورٹیں بھی چھپتی رہتی ہیں۔ مذکورہ انڈین ایکسپریس کے علاوہ دہلی کے ہفت روزہ انڈین کرنٹ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page