بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 492
By Maulana Wahiduddin Khan
(۷ مارچ ۱۹۹۶) میں ایک معلوماتی مضمون مسٹر گلشن ہرا کے قلم سے چھپا ہے۔ اس کا عنوان ہے ________ بیگم سمرو کی سرزمین میں : In the land of Begum Samru ۱۲ اپریل کو جمعہ سے پہلے ہم لوگ سردھنہ کا مشہور سینٹ میری چرچ (St. Mary's Church) دیکھنے کے لیے نکلے۔ یہ سفر جناب علاؤالدین صاحب کی گاڑی میں طے ہوا۔ اس چرچ کا ذکر پہلی بار میں نے مذکورہ اخبار میں پڑھا تھا۔ یہ ایک وسیع حصار بند علاقہ ہے جو گویا سردھنہ کے اندر ایک عظیم تر سردھنہ ہے۔ تقریباً ۶۵ ایکڑ رقبہ میں پھیلی ہوئی یہ وسیع دنیا ایک خاتون نے بنوائی تھی جو عام طور پر بیگم سمرو کے نام سے مشہور ہیں۔ عظیم چرچ کے گیٹ کے اوپر حسب ذیل فارسی قطعہ لکھا ہوا ہے : با مددِ خدا فضلِ مسیحا بسالیٰ، ہجده صد عشرين واثنا بدل زیب النسا، عمدة اراكين بنا فرمود عالی شان کلیسا چرچ کے ایک کتابچہ سے معلوم ہوا کہ بیگم سمرو کا اصل نام فرزانہ تھا۔ ان کے باپ کا نام لطیف علی خان تھا۔ وہ میرٹھ ضلع کے ایک گاؤں کو تانہ میں ۱۷۵۳ء میں پیدا ہوئیں۔ ان کی عمر چھ سال تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ذریعہ معاش کی تلاش میں ان کی ماں انھیں لے کر دہلی آگئیں۔ ان کی باقاعده تعلیم نہ ہوسکی۔ چنانچہ انھوں نے رقص و سرود کا پیشہ اختیار کر لیا۔ جب ان کی عمر پندرہ سال تھی، ایک فرانسیسی افسر (Walter Reinhardt) نے ان کو ایک رقص پارٹی میں دیکھا۔ وہ اس کو پسند آگئیں اور اس نے ان سے نکاح کر لیا۔ ۱۷۶۵ء میں بیگم کا نکاح مسٹر سمرو سے خالص اسلامی روایات کے مطابق ہوا۔ مذکورہ فرانسیسی افسر کا اصل نام والٹرین ہارٹ تھا۔ مگر وہ سیاہ فام تھا، اس بنا پر اس کے یورپی ساتھی اس کو سومبرے (Le Sombre) کہنے لگے جس کے معنی تاریک کے ہیں۔ یہ لفظ بول چال میں بگڑ کر سمر و (Sumru) بن گیا۔ اس طرح یہ فرانسیسی افسر سمرو کہا جانے لگا۔ اور جب اس کا نکاح مذکورہ خاتون سے ہوا تو وہ بھی بیگم سمرو کے نام سے مشہور ہو گئیں ۔ مذکورہ فرانسیسی ابتداً راجہ جواہر سنگھ (بھرت پور) کی فوج میں افسر تھا۔ اٹھارویں صدی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader