Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 494

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے سے مکرتا۔ پرچہ میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ بیگم سمرو اپنے فرانسیسی شوہروں سے بات کس زبان میں کرتی تھی۔ آیا اس کے شوہروں نے اردو یا فارسی سیکھ لی تھی یا خود بیگم نے فرانسیسی زبان میں بقدر ضرورت واقفیت حاصل کر لی تھی۔ بیرونی شخصیتوں سے تو وہ ترجمان کے ذریعہ بات کر سکتی تھی۔ مگر اپنے شوہر سے بات کرنے کے لیے تو ضروری ہے کہ دونوں براہ راست گفتگو کر سکیں۔ مگر اس سوال کا جواب مذکورہ کتاب میں موجود نہیں۔ چرچ کے گیٹ پر لکھا ہوا تھا : (St. Mary's Church) یہ بلند و بالا چرچ بیگم سمرو نے اٹلی کے معماروں کے ذریعہ بنوایا تھا۔ ہم لوگ اندر داخل ہو کر دیکھنے لگے۔ اس وقت چرچ کے اندر سروس (مسیحی عبادت ہو رہی تھی۔ مگر اس میں اتنے کم آدمی تھے کہ وسیع چرچ کے اندر وہ ہمیں دکھائی نہیں دیے۔ مقامی مسیحی گائیڈ جو ہمارے ساتھ تھا، اس نے بھی کچھ نہیں بتایا۔ ہمارے بعض ساتھی آپس میں بولنے لگے۔ ان کی آواز گونج کی وجہ سے زور زور سنائی دینے لگی، تاہم میں حسب عادت بالکل خاموش تھا اور کچھ بھی بولے بغیر چپ چاپ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ آواز سن کر ایک بھاری بھرکم خاتون اندر سے نکلی۔ اس نے غصہ کے انداز میں کہنا شروع کیا کہ یہاں سروس ہو رہی ہے اور یہ پتہ نہیں کون لوگ ہیں جو اس طرح یہاں آکر زور زور سے بول رہے ہیں۔ میں دوبارہ حسب عادت کچھ بھی جواب دیے بغیر باہر آ گیا۔ اتنے میں گائیڈ اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page