بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 495
By Maulana Wahiduddin Khan
سے آیا۔ اس نے کہا کہ چلئے ، آپ کو اندر بلا رہے ہیں۔ مگر میں نے دوبارہ اندر جانے سے قطعی انکار کر دیا۔ اس کے بعد بڑے پادری کو خبر ہوئی۔ وہ اپنا کام چھوڑ کر خود آ گیا اور معذرت کر کے ہم لوگوں کو دوبارہ اندر لے گیا۔ وہ اگر چہ ایک خاص پروگرام میں مصروف تھا۔ لیکن پروگرام چھوڑ کر وہ آخر وقت تک ہمارے ساتھ رہا۔ اور وسیع احاطہ کے مختلف شعبے ہمیں دکھائے اور ہر ایک کا تعارف کرایا۔ وسیع پھیلے ہوئے چرچ کے اندر ایک خاص کمرہ ہے جو سال میں صرف دو بالخصوص تاریخوں پر کھولا جاتا ہے۔ اس کو دیکھنے اور برکت لینے کے لیے لاکھوں عیسائی یہاں جمع ہوتے ہیں۔ فادر نے اس کمرہ کو خصوصی طور پر آج ہمارے لیے کھلوا دیا۔ چرچ میں داخل کے وقت جو نا خوش گوار واقعہ پیش آیا تھا ، یہ غالباً اسی کا ایک خوش گوار نتیجہ تھا۔ اس کمرہ میں کچھ میسی تبرکات رکھے ہوئے ہیں۔ اور سامنے دیوار پر قد آدم مسیح کا اسٹیچو صلیب پر لٹکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کا نقشہ اس طرح ہے کہ موت کے بعد سر ایک طرف لٹکا ہوا ہے ۔ ہاتھ اور پاؤں میں کیل گاڑینے کا خونی نشان ہے۔ سینہ پر بھالا مارنے کی وجہ سے خون بہہ رہا ہے۔ غرض یہ کامل طور پر ایک بے بس انسان کی تصویر تھی۔ میں نے سوچا کہ یہ بھی کیسی عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں "بے بس خدا" کو ماننے والے ساری دنیا میں حرکت و عمل کا طوفان بن گئے ۔ مگر "طاقت ور خدا" کو ماننے والے اپنی بے عملی کے نتیجہ میں ساری دنیا میں سب سے زیادہ پچھڑی ہوئی قوم بنے ہوئے ہیں ۔ اس مصلوب مجسمہ کے اوپر لکھا ہوا تھا انری (INRI)۔ میں نے پادری صاحب سے پوچھا کہ اس کا فل فارم کیا ہے۔ انھوں نے حسب ذیل الفاظ لکھ کر دیے : Iesus Nazarenus Rex Iudeorum یہ لاطینی زبان ہے۔ اس کا مطلب ہے ـــــ یسوع ناصری ، یہودیوں کا بادشاہ : Jesus, The Nazarene, King of the Jews یہ ۱۲ اپریل کو ساڑھے دس بجے دن کا وقت تھا۔ ایک سن رسیدہ سر ہٹنے آکر اس کمرہ کا تالا کھولا اور کہا: مجھ کو ہندی بہت نہیں آتا۔ میں نے کہا کہ آپ انگلش میں بتائیے۔ چنانچہ وہ انگریزی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader