Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 496

By Maulana Wahiduddin Khan

(Thank you, Sister) میں تعارف کراتی رہیں۔ آخر میں نے کہا کہ سسٹر، آپ کا شکریہ اس نے جواب میں کہا کہ ہم سب ایک باپ کی اولاد ہیں : We all are children of one Father. میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ ان لوگوں کے اندر آپ نے جو اخلاق دیکھا اس کا راز کیا ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اس کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے ۔ مشنری اسپریٹ۔ چرچ کے بڑے پادری (Fr. John Monteiro) کی طرف سے انگریزی میں ۸۰ صفحہ کا ایک کتابچہ ہمیں دیا گیا جس میں اس مسیحی سنٹر کے بارہ میں تاریخی تفصیلات درج تھیں ۔ ۸۰ صفحہ کے کتابچہ میں بہت سی تفصیلات ہیں۔ مگر اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ بیگم فرزانہ جب ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئی تھی تو اس نے کیوں مسیحیت قبول کر لیا۔ کتابچہ سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ فادر گر یہ گوری (Fr Gregory) ایک پر جوش مشنری (zealous missionary) تھے۔ وہ اٹلی میں ۲۲ نومبر ۱۷۳۴ ء کو پیدا ہوئے۔ اس کے بعد وہ آگرہ آئے۔ یہاں غالباً انھوں نے ہندوستانی زبان سیکھی۔ اس کے بعد وہ سردھنہ منتقل ہوئے۔ ۷ مئی ۱۷۸۱ء کو انھوں نے بیگم فرزانہ کو مسیحیت میں داخل کیا۔ ان کا نیا نام یو ہانہ سمرو (Yohanna Sumru) رکھا گیا۔ فادر گریگوری کا انتقال دہلی میں ۲۹ مئی ۱۷۸۹ ء کو ہوا۔ دہلی میں رہٹک روڈ پر اب بھی ان کی قبر موجود ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے علماء میں سے کسی نے بیگم سمرو سے رابطہ قائم نہیں کیا۔ وہ ہندوستانی زبان کے علاوہ فارسی زبان اچھی جانتی تھی۔ اس بنا پر علماء اس سے بہت اچھی طرح گفتگو کر سکتے تھے ۔ مگر غالباً کسی بھی عالم کو اس طرف توجہ نہیں ہوئی ۔ اس طرح مسیحی پادری کو یک طرفہ طور پر یہ موقع مل گیا کہ وہ خاتون پر کوشش کرے اور اس کو بیگم فرزانہ سے بیگم یوہانہ بنا دے ۔ مذکورہ کتاب میں یہ درج ہے کہ ۔ اس میں شک نہیں کہ اس سفید پوش اطالوی راہب کو بیگم کی تبدیلی مذہب کے لیے بہت کچھ کرنا پڑا ہوگا۔ اس نے بیگم کو اور اس کے سوتیلے لڑکے (ظفر یاب خان) کو آگرہ کے قدیم اکبر چرچ میں ۱۷۸۱ء میں بپتسمہ دیا۔ بارہ سال بعد اسی نے بیگم کا نکاح ایک فرانسیسی افسر سے کیا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page