بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 498
By Maulana Wahiduddin Khan
پھر وہ مسلم یونیورسٹی کے حصہ میں آئی۔ بیگم سمرو کی زندگی اس دور کے ہندوستان کو بتاتی ہے جو یہاں اٹھارویں صدی اور انیسویں صدی میں پایا جاتا تھا۔ اس وقت کسی سلطنت کے تین اہم شعبے ہوتے تھے ــــ زراعت، انتظام حکومت اور فوج۔ ان میں بھی فوج کا درجہ سب سے اونچا تھا۔ کیوں کہ اقوام متحدہ سے پہلے دنیا میں کوئی بین اقوامی قانون نہیں تھا اور اس قسم کے معاملات کو طے کرنے والی واحد طاقت صرف فوج تھی۔ اُس زمانہ میں حوصلہ آزما افراد کے لیے سب سے بڑی چیز فوجی سردار یا فوجی جنرل بنتا تھا۔ چنانچہ اکثر راجہ اور مہاراجہ کے یہاں یورپ کے لوگ بڑے بڑے فوجی عہدوں پر فائز ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح افغانی سردار یہاں اگر مسلم بادشاہ ہوں اور ہندو راجاؤں، دونوں کے یہاں اعلیٰ فوجی عہدہ حاصل کرتے تھے۔ گویا کہ آج جس طرح مغربی ملکوں کے ٹیکنکل ماہرین ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں اسی طرح پچھلے زمانہ میں یورپ کے فوجی ماہرین یہاں کی فوجوں میں عہدے حاصل کیے ہوئے تھے۔ آج کے ماہرین ہوائی جہازوں پر سفر کر کے آتے ہیں، اُس زمانہ کے ماہرین پانی کے جہازوں پر سفر کر کے یہاں پہنچتے تھے۔ سردھنہ کے عظیم چرچ کے اندر بہت سے اسٹیچو ہیں۔ وہ سب سنگِ مرمر کے بنائے ہوئے ہیں۔ ان کو اٹلی کے فنکاروں نے بنایا ہے۔ ایک سیاح کے الفاظ میں، وہ تعجب خیز حد تک خوب صورت (breathtakingly beautiful) ہیں۔ بیگم سمرو کا ایک مجسمہ ہے جس میں وہ چہرے پر لمبا گھونگھٹ نکالے ہوئے ہے۔ اور ہاتھ میں سانپ لیے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عام انسانوں کے لیے وہ ایک شرمیلی خاتون تھیں۔ لیکن مجرمین کو سزا دینے کے لیے وہ سانپ بن جاتی تھیں۔ یہ اسٹیچو پورا ایک ہی پتھر کا ہے۔ اس کو اتنی مہارت سے بنایا گیا ہے کہ وہ بالکل اصلی معلوم ہوتا ہے۔ ایک بڑی عمارت کے سامنے لکھا ہوا تھا سینٹ جان کی سیمنری (St. John's Seminary) اس کے اندر کچھ نوجوان پڑھتے ہوئے نظر آئے۔ سیمنری اس عیسائی مدرسہ کو کہا جاتا ہے جہاں مذہبی تعلیم کا انتظام ہو۔ اس کا خالص مقصد یہ ہوتا ہے کہ تعلیم و تربیت کے ذریعہ قادر اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader