Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 499

By Maulana Wahiduddin Khan

عہدے دار تیار کیے جائیں جو چرچ کے نظام کو سنبھال سکیں۔ سردھنہ کا یہ مسیحی مرکز (کیتھولک مشن) تقریباً ۶۵ ایکڑ رقبہ میں قائم ہے۔ کتابچہ میں بتایا گیا تھا کہ بیگم سمرو کے انتقال کے بعد ان کی اسٹیٹ حکومت برطانیہ نے اپنے قبضہ میں لے لی۔ مگر مذکورہ ۶۵ ایکڑ کا علاقہ بیگم کی ذاتی ملکیت تھا، چنانچہ وہ محفوظ رہا۔ اس کے بعد وہ مختلف مراحل سے گزرا۔ یہاں تک کہ ۱۸۹۷ء میں آگرہ کے آرچ بشپ نے اس کو ۲۵ ہزار روپے میں خرید لیا۔ سردھنہ کے اس مسیحی مشن کا آرکیٹیکٹ ایک اطالوی میجر ایتھونی (Major Anthony Reghelini) تھا ۔ وہ یہاں کئی سال تک مقیم رہا۔ اس کا رہائشی مکان اب بھی یہاں موجود ہے جو ایتھونی کی کوٹھی کے نام سے مشہور ہے۔ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد، اب یہ عمارت بچوں کے اسکول کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ کیتھولک مشن کی طرف سے مجھ کو جو تعارفی کتاب دی گئی اس کا نام تھا : Sardhana: its Begum, its Shrine, its Basilica 80 صفحہ کی اس کتاب کو پڑھنے کے بعد مجھ کو سب سے زیادہ جس بات پر حیرت ہوئی وہ یہ کہ اس مشن کی تاریخ دو سو سال تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس مدت میں اس کے ساتھ طرح طرح کے نشیب و فراز پیش آئے ۔ ملک کے سیاسی حالات میں بھی انقلابی تبدیلیاں ہوئیں۔ سردھنہ اور آگرہ سے لے کر اٹلی اور فرانس تک کے مختلف لوگ اس سے وابستہ رہے۔ حتی کہ خود بیگم سمرو کو خودکشی کا اقدام کرنا پڑا، اگرچہ وہ بچ گئی۔ وغیرہ وغیرہ۔ طرح طرح کے اونچ نیچ پیش آنے کے باوجود ادارہ نہ ٹوٹا اور نہ تقسیم ہوا۔ اور نہ اپنے مقصد کے اعتبار سے اس میں کوئی خلل واقع ہوا۔ وہ بدستور ترقی کے راستہ پر چلا جا رہا ہے۔ یہی ساری دنیا کے ہزاروں مسیحی اداروں کا حال ہے۔ میں نے خود کئی ایسے ادارے دیکھے ہیں جو سیکڑوں سال سے پرسکون طور پر چلے جا رہے ہیں۔ جب کہ مسلم دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ادارہ ہو جو اس طرح تسلسل کے ساتھ چلا جا رہا ہو۔ یہ فرق روایات کی وجہ سے ہے۔ مسیحی قوموں میں روایات کا انتہائی احترام پایا جاتا ہے۔ کسی روایت کو توڑنے والے ہمیشہ بڑے لوگ ہوتے ہیں۔ مگر مسیحی لوگوں کی اطاعت کیشی کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page