Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 501

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے اپنی کوششوں سے ایک تعلیمی ادارہ کھولا ہے۔ اور اس کو اعلیٰ معیار پر لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ ادارہ ترقی کرے گا۔ اور وہ سرحد کے مسلمانوں کی اس کمی کو پورا کرنے کا باعث بنے گا۔ میں نے مشورہ دیا کہ آپ لوگ سرحدھنہ میں ایک لائبریری بنائیں۔ لائبریری صرف کتابوں کا ایک کمرہ نہیں، وہ دراصل لوگوں کو باشعور بنانے کی ایک خاموش تحریک ہے۔ اور اس کو ہر بستی اور ہر مقام پر ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کے عروج کے زمانہ میں لائبریریوں کا عام رواج تھا۔ برطانیہ کا کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کی قائم کی ہوئی لائبریریوں میں بسا اوقات ایک لاکھ سے بھی زیادہ کتابیں ہوتی تھیں ۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ جن کتابوں کے ذریعہ ظہور میں آئی ، اس کا بڑا حصہ مسلم کتب خانوں میں جمع شدہ عربی کتابوں سے حاصل ہوا تھا جن کو لے کر یورپی زبان میں ان کا ترجمہ کیا گیا (۱۵ / ۴۲۶) برطانیہ کے مقالہ نگار نے مزید لکھا ہے کہ مسلمانوں میں تعلیم اور کتب خانوں کا یہ بڑھا ہوا ذوق پیغمبر اسلام کی تعلیمات کا نتیجہ تھا۔ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اپنے پیروؤں سے کہا کہ تم علم حاصل کرو، خواہ اس کے لیے تمہیں چین جانا پڑے۔ مورخین بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے کچھ قیدیوں کے لیے یہ اصول مقرر کیا کہ ان کا جو شخص مخصوص تعداد میں بچوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے تو وہ رہا کر دیا جائے گا (۱۵/ ۴۲۵) موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پس ماندگی کا کوئی ایک سبب بتانا ہو تو یقیناً وہ یہی تعلیمی پچھڑا پن ہوگا۔ چرچ سے واپسی کے بعد کچھ دیر جناب عمران الزماں صاحب کے مکان پر ٹھہرے۔ انھوں نے چائے کے ساتھ ایک پورا دستر خوان بچھا دیا تھا جس پر کھانے کی مختلف چیزیں موجود تھیں ۔ میں نے کہا کہ بھائی، میں ان مولویوں میں سے نہیں ہوں جو اپنے سفر ناموں میں لکھتے ہیں کہ " پر تکلف کھانے کا انتظام تھا ، ڈٹ کر کھایا “ میرا اصول اس کے برعکس یہ ہے ؛ کم کھانا، اور سادہ زندگی گزارنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page