بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 502
By Maulana Wahiduddin Khan
باہر خوانچہ والا آواز لگا رہا تھا: چيكو ميٹھے، چيكو ميٹھے۔ ميں نے کہا کہ چيكو ميٹھے ہی ہوتے ہیں۔ پھر وہ بار بار میٹھا کیوں کہہ رہا ہے۔ یہ دراصل اس کے جوشِ تجارت کی بنا پر ہے۔ اس کو صرف چيكو کہہ کر اطمینان نہیں ہوا۔ اس لیے اس نے اس میں مزید الفاظ کا اضافہ کر دیا۔ یہ گویا عمل مزید ہے۔ اور اس کا تعلق ہر چیز سے ہے۔ لوگوں کے اندر حقیقی تڑپ ہو تو دین میں بھی اس عمل مزید کے مظاہر دکھائی دینے لگیں گے۔ الرسالہ کے ایک قاری سے میں نے پوچھا کہ آپ کو اس سے کتنا اتفاق ہے۔ انھوں نے کہا کہ ۹۰ فی صد۔ میں نے پوچھا کہ بقیہ ۱۰ فی صد کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمیشہ صبر و اعراض کی تلقین کرتے ہیں، اور اس سے مجھے اتفاق نہیں۔ میں نے کہا کہ صبر و اعراض تو خالص قرآنی تعلیم ہے، پھر کیا آپ کو قرآن سے اتفاق نہیں۔ انھوں نے کہا کہ قرآن سے کس مسلمان کو اختلاف ہو سکتا ہے۔ مجھے قرآن کے نظریہ صبر سے نہیں بلکہ الرسالہ کے نظریہ صبر سے اختلاف ہے۔ میں نے کہا کہ دونوں کا فرق مثال کے ذریعہ بتائیے۔ مگر وہ کوئی فرق نہ بتا سکے۔ اصل یہ ہے کہ اس قسم کے مسلمان اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر صبر و اعراض کی بات کو قبول نہیں کر پاتے۔ ان کو ٹکڑاؤ و لاعمل تو معلوم ہے مگر انھیں صبر والا عمل معلوم نہیں۔ وہ ٹکڑاؤ کو عمل سمجھتے ہیں اور صبر کو بے عملی۔ اب چونکہ ان کے اندر قرآن سے اختلاف کی جرات نہیں، اس لیے یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں قرآن والے صبر سے نہیں بلکہ الرسالہ والے صبر سے اختلاف ہے۔ اس معاملہ میں ان کی غیر سنجیدگی کا ثبوت یہ ہے کہ ان سے جب دونوں کا فرق پوچھا جائے تو وہ فرق بتانے سے عاجز ثابت ہوتے ہیں۔ دوسری بات میں نے یہ کہی کہ صبر کوئی الرسالہ کی بات نہیں، وہ فطرت کا قانون ہے۔ صبر اس دنیا میں جینے کی قیمت ہے۔ اس لیے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ صبر کرنا ہے یا نہیں۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آپ کو یہاں جینا ہے یا نہیں جینا ہے۔ اگر صبر نہیں تو زندگی بھی نہیں۔ اس لیے یہ نہ کہے کہ ہمیں صبر نہیں کرنا ہے، بلکہ یہ کہے کہ ہمیں جینا نہیں ہے، ہم کو تو صرف برباد ہونا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader