Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 504

By Maulana Wahiduddin Khan

تو اس دنیا میں وہ آخرت کی کمائی کرنے والا نہیں بن سکتا۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ الرسلہ لٹریچر ہی عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر ہے اور الرسلہ بلا شبہ عصر حاضر میں اسلامی تجدید کا کام انجام دے رہا ہے “ سردھنہ میں نوابوں کا ایک خاندان ہے۔ ہندوستان میں جب انگریزیوں کے خلاف بغاوت ہوئی تو انھوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا۔ انگریزوں نے اپنی حکومت کے استحکام کے بعد انھیں بہت نوازا۔ ان نوازشوں کا فائدہ اب تک انھیں مل رہا ہے۔ میں نے کہا کہ ہمارے رہنما دو سو سال سے بتا رہے ہیں کہ انگریز ایک مسلم دشمن اور اسلام دشمن قوم ہے۔ اور اس کے ثبوت میں بتاتے ہیں کہ اس نے ہزاروں مسلمانوں کو سولی پر چڑھا دیا۔ مگر تعرف الاشیاء با ضدادھا کے اصول پر سوچنا چاہیے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ وہی انگریز سردھنہ میں (نیز دوسرے علاقوں میں) مسلمانوں کے ساتھ نوازش کا معاملہ کر رہے ہیں۔ اس پر غور کرنے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اصل معاملہ مسلم دشمنی کا نہیں ہے۔ بلکہ اس سے دشمنی کا ہے جو مفاد کے راستہ میں حائل ہو۔ دوسرے تمام لوگوں کی طرح، انگریز اپنے دشمن کا دشمن اور اپنے دوست کا دوست ہے۔ جس مسلمان کو اس نے اپنا مخالف پایا اس کو اس نے اپنے عتاب کا نشانہ بنایا اور جس مسلمان نے اس سے موافقت کی اس پر اس نے نواز شیں کیں۔ دہلی واپس آنے کے بعد ۱۳ اپریل ۱۹۹۶ کو میں نے سردھنہ کے نواب صاحبان کا قصہ عطا اللہ صاحب (بنگلور) کو بتایا۔ انھوں نے کہا کہ ایسا ہی واقعہ ہماری ریاست کرناٹک میں ہوا ہے ۔ ہمارے یہاں بڑے بڑے کافی کے باغات ہیں۔ ان کے مالک پہلے انگریز تھے۔ جب وہ اپنے ملک واپس جانے لگے تو انھوں نے بالقصد اپنے باغات مسلمانوں کو دیے ۔ ہندو زیادہ قیمت دینے کے لیے تیار تھے ، مگر انھوں نے کم قیمت پر اسے مسلمانوں کے ہاتھ بیچ دیا۔ اس کا سبب بھی یہی ہے کہ جنوب کے مسلمانوں نے انگریزوں کے خلاف اس نوعیت کا باغیانہ سلوک نہیں کیا جو شمال کے مسلمانوں نے کیا۔ اس لیے انھوں نے جنوب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page