Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 503

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا محمد عرفان قاسمی نے اپنا ایک تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ ”چند سال پیشتر آپ کے خلاف فکری غلطی نامی کتاب چھپی تھی۔ وہ میری نظر سے گزری۔ پڑھنے سے پہلے میرا خیال تھا کہ مصنف نے آپ کے تمام لٹریچر کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کے مشترک بنیادی فکر کی نشان دہی کی ہوگی۔ پھر اس بنیادی فکر کو قرآن و حدیث کے ذریعہ رد کرنے کی کوشش کی ہوگی۔ لیکن کتاب پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا کہ مصنف خود تبصرہ وتنقید کے اصول سے ناواقف ہیں۔ اپنی کتاب میں تبصرہ و تنقید کا جو انداز انہوں نے اختیار کیا ہے، اس کی غلطی اسی سے ثابت ہے کہ اگر اس کو تبصرہ کا معیار مان لیا جائے تو حدیث کی تمام کتابوں پر بھی بعینہ یہی تبصرہ صادق آئے گا جو انہوں نے فکر و حید پر چسپاں کیا ہے۔ مثلاً انہوں نے تعارض کی مثال دی ہے ۔ جب کہ حدیث کے اندر بھی بظاہر اسی قسم کے تعارضات موجود ہیں ۔ حالاں کہ یہ بات لغویت کی حد تک غلط ہے کہ حدیث میں تعارض کا دعویٰ کیا جائے۔ تبصرہ نگار نے ایک اور بڑی غلطی یہ کی ہے کہ ایک جزئی اور وقتی حالات سے متاثر کیفیت کو قاعدۂ کلیہ مان کر نتیجہ اخذ کیا ہے“۔ قرآن میں ہے کہ ـــــــــ اور جب وہ ہماری آیتوں میں سے کسی چیز کی خبر پاتا ہے تو وہ اس کو مذاق بنالیتا ہے (و اذا علم من آیاتنا شیئا اتخذھا ھزوا) الحاثہ ۹ یہاں یہ سوال ہے کہ قرآن تو مکمل طور پر ایک برحق کتاب ہے۔ پھر کوئی شخص قرآن میں کس طرح ایسی شئی (چیز) پالیتا ہے جس کا وہ مذاق اڑاسکے۔ جواب یہ ہے کہ قابل استہزار شئے کتاب میں نہیں ہوتی بلکہ غیر سنجیدہ آدمی کے اپنے دماغ میں ہوتی ہے۔ کسی بھی بات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے سنجیدگی ضروری ہے۔ آدمی کے اندر سنجیدگی نہ ہو تو وہ خدا کی کتاب میں بھی الٹی بات نکال کر اس کا مذاق اڑانے لگے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ہدایت یابی کے لیے تقویٰ کو ضروری قرار دیا گیا ہے۔ مولانا محمد عرفان قاسمی پابندی کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے تاثرات بتاتے ہوئے کہا: ”صحیح اسلامی تحریک وہ ہے جو دین کی بے آمیز دعوت پر اٹھائی جائے ۔ اور الرسالہ کو میں اسی معیار پر پاتا ہوں۔ میرا احساس ہے کہ الرسالہ جو حقیقت پسندی اور جو گہری نظر پیدا کرنا چاہتا ہے، آج اسی کی ضرورت ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ صفات پیدا نہ ہوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page