بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 509
By Maulana Wahiduddin Khan
آغاز ہے۔ اس سلسلے میں تاریخی مثالیں دیتے ہوئے بتایا تھا کہ علم سے مراد سند اور سرٹیفکیٹ والا علم نہیں ہے۔ بلکہ وہ علم ہے جو آدمی کو باشعور بنائے۔ جو مومن کو صاحب فراست انسان بنا دے۔ جو عصر میں یسر دیکھنے کی نظر پیدا کرے۔ جس کا یہ نتیجہ ہو کہ آدمی پہاڑوں کو دیکھ کر اس سے تقویٰ اور خشیت کی غذا لینے لگے۔ سفر کے آخر میں مولانا محمد عرفان قاسمی (استاذ حدیث) نے اپنا تاثر تحریری صورت میں لکھ کر دیا۔ یہ انھیں کے اپنے الفاظ میں حسب ذیل ہے : ” اسلامی تاریخ میں بے شمار دُعاۃ و مبلغین پیدا ہوئے ہیں، لیکن صاحب الرسالا اپنی نوعیت کے پہلے داعی ہیں جنھوں نے اسلام کے دعوتی پہلو کو نمایاں کیا ہے، موصوف نے دین کے اساسی اصول کو مرکزِ توجہ بنایا ہے ، حق تعالیٰ نے آنجناب کو عصر حاضر میں تجدید دین و احیاء اسلام کے لیے مبعوث فرمایا۔ تقریباً ڈیڑھ ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں جہاں دین کے اندر غیر دین کی آمیزش ہو گئی تھی، وہیں احیار اسلام کے لیے موافق اسباب بھی جمع ہو گئے تھے ، حضرت مولانا نے نہ صرف دین کو بے آمیز بنایا بلکہ موافق اسباب کی نشان دہی کے ساتھ ساتھ ، اس کو جھنجھپور استعمال کی کوشش کی ، تاکہ فکر اسلامی کو دنیا کے اندر غالب فکر کا مقام عطا ہو سکے، سچ تو یہ ہے کہ دعوت دین کی تحریک کو جس پیغمبرانہ طریقہ پر چلایا ، یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ علمائے اُمتی کا انبیاء بنی اسرائیل کے آنجناب واحد حقیقی مصداق ہیں“ ۱۲ اپریل ۱۹۹۶ کو جمعہ کی نماز اور تقریر کے بعد ایک صاحب کے مکان پر چائے کی نشست ہوئی ۔ یہاں دوبارہ مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی ۔ آج کے اخبار میں ”ضلع میرٹھ“ کا خبر نامہ چھپا ہوا تھا۔ اس میں قتل یا حادثاتی موت کے آٹھ واقعات درج تھے ۔ کسی دیہات میں گھریلو جھگڑوں میں ایک آدمی نے دوسرے کو مار ڈالا۔ کہیں سڑک پر دو سواریوں کی ٹکر میں کوئی شخص ہلاک ہو گیا ۔ وغیرہ ۔ (قومی آواز ۱۲ اپریل ۱۹۹۶) میں نے کہا کہ دیکھئے، میں دو دن سے میرٹھ کے علاقہ میں ہوں ۔ مگر ایسی کوئی بات میرے دیکھنے یا سننے میں نہیں آئی ۔ گویا کہ چار ملین آبادی کے ضلع میں یہ محض استثنائی واقعات ہیں نہ کہ عمومی واقعات ۔ لیکن اگر میں میرٹھ سے دور ہوتا اور صرف اخبار ہی میرے لیے میرٹھ ضلع کو جاننے کا ذریعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader