بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 510
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتا تو یہی استثنائی واقعات میرے لیے کل واقعات بن جاتے۔ میں انھیں سے میرٹھ ضلع کی تصویر بناتا۔ پھر میں سمجھ لیتا کہ میرٹھ تو صرف قتل اور موت کا ایک علاقہ ہے۔ میں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان اس ملک میں ہزار سال سے امن اور محبت کے ساتھ رہتے تھے۔ سو سال پہلے جب یہاں اخبار کا دور آیا اسی وقت سے دونوں فرقوں کے درمیان نفرتیں پیدا ہوئیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخبارات دونوں فرقوں کو ایک دوسرے کی مصنوعی تصویر دکھانے لگے۔ پچھلے زمانہ میں باہمی اختلاط ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ تھا، اب اخبارات ایک دوسرے کو جاننے کا ذریعہ بن گئے ہیں۔ مثال کے طور پر سردھنہ میں دونوں فرقے باہم مل کر رہتے ہیں۔ مگر یہ بات اخبار میں نہیں چھپے گی۔ البتہ کبھی کسی ہندو اور کسی مسلمان میں لڑائی ہو جائے تو وہ فوراً اخبار میں چھپ جاتا ہے۔ اس قسم کی منفی رپورٹنگ دونوں طرف ہو رہی ہے۔ ہندی اخبار اس قسم کی ادھوری رپورٹنگ کے ذریعہ ہندوؤں کا ذہن بگاڑ رہے ہیں۔ اسی طرح اردو اخبار اسی قسم کی ناقص رپورٹنگ کے ذریعہ مسلمانوں کا ذہن بگاڑ رہے ہیں۔ یہی غیر فطری ذہن کبھی کسی اتفاقی سبب سے بھڑک اٹھتا ہے تو وہ فرقہ وارانہ فساد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہاں سے فارغ ہو کر دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ سردھنہ سے گزر کر ہماری گاڑی میرٹھ کے بازار میں داخل ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ ہندو اور مسلمان دونوں سرگرم طور پر مختلف تجارتوں میں مشغول ہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مسلمان اس نظریہ کو رد کر رہے ہیں کہ انڈیا ان کے لیے ایک پرابلم کنٹری ہے۔ اسی طرح ہندو اس پروپیگنڈے سے باہر نکل آئے ہیں کہ مسلمان ان کے لیے ایک غیر مطلوب فرقہ ہیں۔ اب دونوں از سر نو ایک دوسرے کو قبول کر رہے ہیں۔ مسلمان سمجھ چکے ہیں کہ انڈیا ان کے لیے مواقع سے بھرا ہوا ایک ملک ہے۔ ایک عرصہ تک وہ نااہل لیڈروں اور بے بصیرت دانش وروں کے بہکاوے میں رہے۔ اب وہ اس فریب سے باہر آ گئے ہیں۔ اسی طرح ہندو جو بعض پروپیگنڈوں سے متاثر ہو کر مسلمانوں کو بابر کی سنتان کے روپ میں دیکھنے لگا تھا، اب وہ ان کو فرزندان وطن کے روپ میں دیکھ رہا ہے۔ وہ ان کو ہندوستان کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader