بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 513
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں ناراض عناصر اس قسم کی وحشیانہ کارروائیاں ساری دنیا میں کر رہے ہیں۔ البتہ مسلمانوں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہے کہ ان کا کوئی آدمی جب ایسا فعل کرتا ہے تو اس کا عمل جہاد قرار پاتا ہے۔ اور وہ خود مجاہد کا لقب پا کر اپنی قوم کے درمیان ہیرو بن جاتا ہے۔ راستہ میں ایک جگہ ریلوے کراسنگ تھی ، کوئی ٹرین آرہی تھی ، اس لیے دونوں طرف کے گیٹ بند کر دیے گئے تھے۔ ہماری گاڑی کھڑی ہوگئی۔ میں نے اتر کر دیکھا تو دونوں طرف سڑک کے اوپر دور تک گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔ میں نے سوچا کہ اگر کوئی کہے کہ صرف ایک ٹرین کو گزرانے کے لیے اتنی زیادہ گاڑیاں روک دی گئیں۔ ٹریفک کا یہ اصول بالکل غیر منصفانہ ہے تو یہ جملہ قواعد کے لحاظ سے درست مگر حقیقت کے اعتبار سے غلط ہوگا۔ کیوں کہ یہ کم تعداد اور زیادہ تعداد کا مسئلہ نہیں، یہ ترجیح اور تنظیم کا مسئلہ ہے۔ اور جہاں اس طرح کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے وہاں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کون کم ہے اور کون زیادہ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر معاملہ کو دیکھنے کا ایک صحیح رخ ہوتا ہے ، اور دوسرا غلط رخ۔ فرق کی اس حکمت کو جاننا بے حد ضروری ہے۔ ورنہ آدمی کسی معاملہ میں ایک فیصلہ کرے گا۔ اپنی جگہ پر وہ سمجھے گا کہ میں درست ہوں۔ حالاں کہ وہ سراسر غلطی پر ہوگا۔ اور اس کی سادہ سی وجہ یہ ہوگی کہ وہ معاملہ کو غلط رخ سے دیکھ رہا ہوگا۔ مثلاً آج کل دنیا بھر کے مسلم علماء اور دانشور یہ کہہ رہے ہیں کہ تمام غیر مسلم قومیں اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت پر متحد ہو گئی ہیں۔ یہود و ہنود اور صیہونی طاقتیں اور صلیبی طاقتیں سب کی سب چاہتی ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں کو مٹادیں ۔ یہ نظریہ سراسر بے بنیاد ہے۔ پھر ایک بے بنیاد بات پر مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے کیوں اس طرح متفق ہوگئے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ایک واقعہ کو وہ غلط رخ سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ بجائے خود واقعہ ہے کہ مسلمانوں کو دنیا بھر میں غیر موافق حالات کا تجربہ پیش آرہا ہے۔ مگر اس معاملہ کا تعلق قانون فطرت سے ہے نہ کہ انسانوں کی مخالفانہ کارروائیوں سے۔ اصل یہ ہے کہ دنیا کا نظام اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں انسانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader