Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 515

By Maulana Wahiduddin Khan

نئی نئی باتیں سیکھتا ہے۔ اسی لیے سیاحت کو قرآن میں مومن کی ایک صفت بتایا گیا ہے۔ امام رازی نے سائحون اور سیاحت کی تفسیر ان الفاظ میں کی ہے : السائحون فی الارض لطلب العلم - السياحة هي الذهاب في المدن للعلظة والاعتبار - اگر آدمی کے اندر توشم (الحجر ۷۵) کی صفت موجود ہو تو ہر سفر اس کے لیے ایک عظیم درس عبرت بن جائے گا۔ ۱۲ اپریل ۱۹۹۶ کی شام کو مغرب کے وقت میں دہلی واپس آگیا۔ زندگی پوری کی پوری اسی قسم کا ایک وسیع تر سفر ہے۔ آدمی اپنی قیام گاہ سے نکل کر کہیں جاتا ہے اور دوبارہ اپنی قیام گاہ پر واپس آجاتا ہے۔ یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا، یہاں تک کہ انسان اپنی آخری منزل، آخرت تک پہنچ جائے۔ جب میں دہلی پہنچا تو کل کے دن مکان کے جس گیٹ سے نکل کر میں گاڑی میں بیٹھا تھا، آج گاڑی سے نکل کر دوبارہ اسی گیٹ کے اندر داخل ہوگیا۔ اس وقت مجھے یہ دعا یاد آئی: رب ادخلنی مدخل صدق و اخر جنی مخرج صدق واجعل لی من لدنک سلطانا نصیرا (بنی اسرائیل ۸۰) کچھ سیاسی ذوق رکھنے والوں نے لفظی مشابہت کی بنا پر یہاں سلطان کو سیاسی اقتدار کے معنی میں لے لیا ہے۔ یہ اس کی معنویت کو غارت کرنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں سلطان سے مراد نصرت لدنی یا نصرت الہی ہے، جیسا کہ دوسرے مقام پر حضرت موسیٰ کے لیے فرمایا: سنشد عضدك باخيك ونجعل لكما سلطانا فلا يصلون اليكما (القصص (۳۵) یہ مدد کی وہ قسم ہے جو خصوصی طور پر داعی حق کو ملتی ہے اور ہمیشہ اس کے ساتھ رہتی ہے۔ اس دعا کا تعلق مدخل اور مخرج دونوں سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدایا، نکلنے میں بھی تو میری مدد فرما اور داخل ہونے میں بھی تو میری مدد فرما۔ ہر وقت اور ہر لمحہ کے لیے تو میرا طاقت ور مددگار بن جانا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page