پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 516
By Maulana Wahiduddin Khan
پونہ کا سفر پونہ کے ایک بڑے سائنسی ادارہ ایم آئی ٹی کے زیرِ انتظام پونہ میں ایک بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جو ۲۴ نومبر سے یکم دسمبر ۱۹۹۶ء تک جاری رہی۔ اس کانفرنس کا نام ورلڈ فلاسفر میٹ تھا۔ اس کی دعوت پر راقم الحروف نے پونہ کا سفر کیا۔ ذیل میں اس کی مختصر روداد درج کی جاتی ہے۔ ۲۳ نومبر ۱۹۹۶ء کی شام کو دہلی سے انڈین ایرلائنس کی فلائٹ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز مکمل طور پر بھرا ہوا تھا جب کہ ہر دن بہت سے لوگ ٹرینوں اور بسوں کے ذریعہ بھی دہلی سے پونہ کا سفر کرتے ہیں۔ جدید وسائل سفر سے پہلے دہلی اور پونہ کے درمیان روزانہ ایک آدمی کے سفر کا اوسط بھی نہیں ہوگا مگر آج دونوں شہروں کے درمیان ہزاروں آدمی روزانہ آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ یہ صنعتی انقلاب کا نتیجہ ہے۔ صنعتی انقلاب نے زندگی کے نقشہ میں جو تبدیلیاں کی ہیں اس کا ایک پہلو انسانی اختلاط میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ اس طرح جدید دور نے دعوت کے امکانات کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ مگر جن لوگوں کو ان جدید دعوتى مواقع کو استعمال کرنا تھا وہ ان سے باخبر ہی نہ ہو سکے، پھر وہ ان کو استعمال کس طرح کرتے۔ دو گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد جہاز پونہ کے ہوائی اڈہ پر اترا وہاں کانفرنس کے نمائندوں کے علاوہ حلقہ الرسائل کے افراد بھی موجود تھے۔ ائیرپورٹ پر کچھ وقت گزارنے کے بعد ہمارا قافلہ شہر کی طرف روانہ ہوا۔ یہاں میرا قیام ایشیش پلازہ ( روم ۷۰۴) میں تھا۔ یہ ہوٹل تاریخی فرگوسن کالج کے عین سامنے واقع ہے اور نہایت صاف ستھرا ہے۔ ہوٹل کا عملہ بھی مستعد نظر آیا۔ پونہ کی یہ فلسفیانہ کانفرنس مہاراشٹر کے ایک قدیم فلسفی شاعر جنا نیشور (۱۲۹۶ - ۱۲۷۸) کے نام پر کی گئی تھی۔ دوسری کتابوں کے علاوہ انھوں نے گيتا کی ایک شرح مراٹھی زبان میں لکھی تھی جس کا ترجمہ یونیسکو کی طرف سے انگلش، فرینچ، اسپینش، میں کیا جا رہا ہے۔ یہ بات کانفرنس میں بتائی گئی۔ ۲۴ نومبر کو کانفرنس کے افتتاح کا دن تھا۔ ایک وسیع پنڈال میں دلائی لامہ نے اس کا افتتاح کیا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اس پر زور دیا کہ لوگ اپنے گرین کو ختم کریں اور مل جل کر امن کے ساتھ زندگی گزاریں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader