Urdu book · اسفارِ ہند

پٹنہ کا سفر

Urdu book, p. 517

By Maulana Wahiduddin Khan

چند دوسری شخصیتوں کے علاوہ میری بھی ایک تقریر اس افتتاحی پروگرام میں رکھی گئی تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ آزادی کے بعد ہندوستان مطلوب ترقی حاصل نہ کر سکا اس کی واحد وجہ کردار کی کمی ہے۔ اس وقت سب سے بڑا کام یہ ہے کہ ملک کے اندر کردار سازی کی مہم چلائی جائے ۔ کوئی بھی دوسری ترقی کردار کا بدل نہیں بن سکتی۔ کانفرنس کے آغاز میں اسکول کے بچے اپنے مخصوص یونی فارم میں قطار در قطار اسٹیج کے سامنے سے گزرے۔ وہ اپنے ہاتھوں میں تمام دنیا کے ملکوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور عالمی اتحاد کے گیت گا رہے تھے۔ یہ ایک دلکش منظر تھا میں نے سوچا کہ گیت اور جھنڈے کی سطح پر عالمی اتحاد کا مظاہرہ کتنا آسان ہے۔ اس کے مقابلہ میں حقیقی زندگی کی سطح پر عالمی اتحاد حاصل کرنا کتنا زیادہ مشکل۔ یہ کانفرنس ۲۴ نومبر سے لے کر ۳۰ نومبر ۱۹۹۴ تک جاری رہی ۔ ہر روز مختلف مذاہب اور مختلف فلسفیانہ اسکول پر الگ الگ اجلاس ہوتے رہے۔ اس کانفرنس میں تقریباً ایک ہزار ڈیلی گیٹ شریک تھے جس میں ہندوستان کے علاوہ بیرونی ملکوں کے لوگ بھی شامل تھے۔ یہ تمام ڈیلی گیٹ اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ میں اپنے ذوق کے مطابق روزانہ کسی ایک اجلاس میں شریک ہوتا رہا۔ چند مواقع پر مختصر طور پر اپنی رائے کا بھی اظہار کیا ۔ اس کے علاوہ کثیر تعداد میں لوگوں سے انفرادی ملاقاتیں ہوئیں۔ اس طرح انفرادی گفتگو کی صورت میں مختلف ملکوں ، مختلف مذاہب اور مختلف فلسفیانہ اسکول کے لوگوں سے تبادلہ خیال جاری رہا۔ ۲۵ نومبر کو ایک پورا سیشن اسلام کے موضوع پر رکھا گیا تھا۔ اس سیشن کا صدر مجھ کو بنایا گیا۔ مجھے اس سیشن میں تقریر کرنے کے لیے یہ موضوع دیا گیا تھا ۔ اسلام کا فلسفہ امن: (The Philosophy of peace in Islam) اس سیشن میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ یہاں ہر مقرر کو بیس منٹ کا وقت دیا جاتا تھا۔ مگر ہر مقرر نے زیادہ وقت لے لیا۔ آخر میں یہ ہوا کہ ایک خاتون جو پروگرام کو کنڈکٹ کر رہی تھیں انھوں نے مجھ سے کہا کہ اب آپ کے لیے صرف دو منٹ باقی ہیں۔ میں نے کسی ناراضگی کے بغیر دو منٹ میں اپنی بات ختم کر دی۔ میں نے جیسے ہی اپنی تقریر ختم کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page