پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 519
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کانفرنس کے بعض افراد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بظاہر خوب صورت معلوم ہوتی ہے مگر اس کی کوئی عملی معنویت نہیں۔ دوسرے تمام معاملات میں سچائی صرف ایک ہوتی ہے۔ پھر مذہب کے معاملہ میں ایسا کیوں کر ممکن ہے کہ ہر چیز سچی ہو جائے۔ صداقت بلاشبہ ایک ہے۔ البتہ سماجی زندگی کے نظام کو بحسن و خوبی چلانے کے لیے ہر ایک کو دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔ ایک صاحب نے اپنے مقالہ میں کہا کہ ویدوں کا یہ کہنا ہے کہ سچائی ایک ہے، مگر اہل دانش اس کو مختلف طریقہ سے بیان کرتے ہیں: Truth is One; Wise speak of it in many ways. یہ بات عام طور پر اس طرح دہرائی جاتی ہے جیسے کہ وہ سائنٹفک فیکٹ کی طرح کوئی ثابت شدہ چیز ہو۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں دو سوالات بہت بنیادی ہیں جن کا جواب ابھی نہیں دیا گیا ہے۔ ۱۔ کہنے والے کا استناد (authenticity) کیا ہے۔ ۲۔ جب کہنے والا آج زندہ موجود نہیں ہے بلکہ اس کے نام سے صرف کچھ کتابیں موجود ہیں تو سوال یہ ہے کہ ان کتابوں کی تاریخی اعتباريت (historical credibility) کیا ہے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے ابھی تک ان دونوں سوالوں کا کوئی معتبر جواب نہیں دیا گیا ہے۔ اور جب تک ان دونوں سوالوں کا معتبر جواب نہ دیا جائے مذکورہ بیان کی صداقت غیر ثابت شدہ رہے گی۔ یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی ان میں ایک سادھو تھے۔ گفت گو کے دوران انھوں نے اپنے خاص انداز میں کہا: یہ دونوں آنکھیں تو کیمرہ ہیں باہر دیکھنے کے لیے۔ بھہتر کو تو آنکھیں بند کرکے ہی دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ بات مجھے پسند آئی۔ یہ صحیح ہے کہ آنکھیں صرف بیرونی چیزوں ہی کو دیکھ پاتی ہیں۔ اندر چھپی ہوئی حقیقتوں کو دیکھنے کے لیے بصیرت درکار ہے نہ کہ صرف بصارت۔ تاہم یہ بات مطلق معنوں میں صحیح نہیں۔ کیونکہ آنکھ سے دیکھی ہوئی چیزوں کی حیثیت ڈاٹا (data) کی ہے۔ آنکھیں گویا باہر سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader