پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 520
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاٹا اکٹھا کر کے اندرونی بصیرت کو فراہم کرتی ہیں پھر بصیرت اس جمع شدہ ذخیرہ معلومات کی مدد سے گہرے نتائج تک پہنچتی ہے۔ اگر آنکھ کا مشاہداتی عمل رک جائے تو اندرونی بصیرت کا عمل ختم تو نہ ہوگا البتہ بہت زیادہ محدود ہو جائے گا۔ اس کانفرنس میں بہت بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ ہندو شریک تھے۔ کئی ہندوؤں نے اپنے مخصوص ذوق کے مطابق یہ بات کہی کہ سب دھرم ایک ہیں۔ لوگ ناحق مذہب کے نام پر آپس میں لڑتے ہیں۔ اس سلسلہ میں گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مذہبی اختلاف کا حل یہ نہیں ہے کہ یہ ثابت کیا جائے کہ سب مذہب ایک ہیں۔ اس کا حقیقی حل یہ ہے کہ ٹالرنس پر زور دیا جائے۔ لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ اختلاف زندگی کا ایک حصہ ہے نہ صرف مذہب میں بلکہ ہر معاملہ میں اختلافات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں پرامن سوسائٹی بنانے کا راز یہ ہے کہ لوگ اپنے عقیدے کو مانتے ہوئے دوسرے کا احترام کریں۔ گویا کہ اس مسئلہ کا حل باہمی اعتراف (mutual recognition) میں نہیں ہے بلکہ باہمی احترام (mutual respect) میں ہے۔ پونہ کی کانفرنس میں شرکت کرنے والوں میں سے ایک پٹنہ کے ڈاکٹر احسان اشرف (368037 .Tel) بھی تھے ۔ ان کا مضمون فلسفہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ میں اقبال کے فلسفہ پر ایک کتاب لکھ رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ اقبال کو فلسفی کہنا بذات خود درست نہیں۔ اگر آپ اقبال کی اس کتاب (The Reconstruction of religious thought in Islam) کی بنا پر ان کو فلسفی کہیں تو میں کہوں گا کہ وہ فلسفہ کی کتاب نہیں ہے بلکہ علم کلام کی کتاب ہے۔ اور فلسفہ اور علم کلام میں بہت زیادہ فرق ہے۔ اور اگر آپ اقبال کے اشعار کی بنا پر ان کو فلسفی کہیں تو یہ اور بھی زیادہ عجیب ہے کیونکہ فلسفہ ایک انتہائی سنجیدہ نظام فکر کا نام ہے اور کسی سنجیدہ نظام فکر کو کبھی بھی درست طور پر شاعری کے ذریعہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان سے دو دن ملاقات ہوئی پہلے دن وہ اس موضوع پر دیر تک اختلافی بحث کرتے رہے مگر جب اگلے دن ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں آپ کی بات پر غور کرتا رہا اور آخر میں یہ سمجھ میں آیا کہ آپ جو کہتے ہیں وہی ٹھیک ہے۔ اقبال کو فلسفی کہنے کے لیے سب سے پہلے خود فلسفہ کی تعریف کو بدلنا ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader