Urdu book · اسفارِ ہند

پٹنہ کا سفر

Urdu book, p. 524

By Maulana Wahiduddin Khan

We believe that Union of Science and Religion in the true sense of the word, alone will bring peace and harmony to mankind. چتر لیکھا کے وکیل جو مراٹھی اور گجراتی دونوں زبانوں میں نکلتا ہے اس کے نمائندہ ہشتی کا نت سوانت نے ۲ نومبر کو انٹرویو لیا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام سرتا پا امن کا مذہب ہے۔ اسلام کی تمام سرگرمیاں پر امن جد و جہد کے اصول پر مبنی ہے اسلام میں جنگ کوئی ایجابی حکم نہیں وہ صرف دفاع کے لیے ہے اور وہ بھی اس وقت جب کہ جنگ سے بچنے کی تمام ممکن کوشش ناکام ہو چکی ہو اور مقابلہ کے سوا کوئی دوسرا چارہ کار باقی ہی نہ رہے۔ میرا قیام جس ہوٹل میں تھا وہ مسلم آبادی سے الگ تھا۔ تاہم روزانہ کچھ نہ کچھ مسلمان یہاں آتے رہے اور ان سے گفتگو میں جاری رہیں۔ ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اورنگ زیب کے زمانہ سے لے کر اب تک مسلمانوں کا صاحب علم طبقہ تم ہٹوں کو مسلمانوں کا حریف سمجھتا رہا۔ اس کے نتیجہ میں یہ ہوا کہ مسلمانوں اور مہٹوں کے درمیان معتدل انسانی تعلقات قائم نہ ہو سکے ۔ اس کا نقصان سب سے زیادہ خود مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔ میں نے کہا کہ اس سے پہلے مہٹوں کا جوٹکڑا او پیش آیا وہ اصلاً مغل حکومت سے تھا نہ کہ مسلمانوں سے۔ یہ ایک تباہ کن نظریہ ہے کہ مسلم وجود کی شناخت سیاسی اقتدار کو بنایا جائے سیاسی اقتدار ایک ایسی چیز ہے جس کے خلاف ہمیشہ رقابتیں جاری رہتی ہیں۔ حتی کہ خود اصحاب رسول کے زمانہ میں بھی شدید ترین نوعیت کی سیاسی رقابتیں ابھر آئیں۔ اور اس کی بنا پر زبردست قتل و خون ہوا۔ ایسی حالت میں اگر سیاسی اقتدار کو مسلمانوں کے وجود ملی کی شناخت بنایا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان ابدی طور پر وقت کے حکمرانوں سے ٹکراتے رہیں۔ اور اس کے نتیجہ میں انھیں کبھی وہ سکون حاصل نہ ہو جو ہر قسم کی ترقیاتی کاموں کے لیے انتہائی طور پر ضروری ہے۔ پونہ کے آٹھ روزہ قیام کے دوران مقامی مسلمانوں سے مسلسل ربط قائم رہا۔ انفرادی ملاقاتوں کے علاوہ ہر روز چھوٹے بڑے اجتماعات ہوتے رہے۔ ایک اجتماع ایک ہال میں ہوا، کچھ مسجد میں اور کچھ لوگوں کے گھروں پر۔ ان اجتماعات کا مشترک موضوع یہ تھا - اسلام اور مسلمان عہد جدید میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page