پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 525
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک اجتماع میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں مسلم تحریکیں حبط اعمال کا شکار ہوگئیں۔ اس کی خاص وجہ ہمارے رہنماؤں کا دہر معیار ہے۔ مثلاً ہندوستان کا ہندو اگر ایک سے زیادہ شادی پر پابندی لگانے کی بات کرے۔ تو تمام بے ریش اور باریش رہنا اس کے خلاف پرشور تحریک چلانے کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف خود مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہر گھر میں پہلی بیوی نے دوسرے نکاح کو عملاً پوری طرح بند کر رکھا ہے۔ میں نے حاضرین سے کہا کہ آپ میں سے جس کو میرے اس بیان پر شبہ ہو وہ اپنے گھر میں دوسری بیوی لا کر دیکھے۔ تمام حاضرین نے میری بات سے اتفاق کیا۔ میں نے کہا کہ یہ واضح طور پر ڈبل اسٹینڈرڈ کا معاملہ ہے۔ ایک مسئلہ اگر ہندو پیدا کرے تو ہمارے تمام چھوٹے اور بڑے رہنما بھڑک کر اس کے خلاف سرگرم ہو جاتے ہیں۔ مگر ٹھیک وہی مسئلہ مسلمان پیدا کرے تو کوئی بھی اس پر تحریک چلانے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ جو کام اس دہر معیار کے ساتھ کیا جائے اس کو کبھی بھی خدا کی مدد نہیں مل سکتی۔ اور نہ اس سے کسی با برکت نتیجہ کی امید کی جا سکتی ہے۔ پونہ میں جناب فاروق فیصل صاحب سے ملاقات ہوئی وہ گورنمنٹ سروس میں ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ نانڈیڑ (مہاراشٹر) میں تبلیغی جماعت کا ریاستی جوڑ ۲۲-۲۴ نومبر ۱۹۹۶ کو تھا۔ وہ خود بھی اس میں شریک تھے۔ انھوں نے بتایا کہ شارٹ سپلائی اسکیم کے تحت دوسرے مقامات کی طرح نانڈیڑ میں بھی مختلف علاقوں میں باری باری بجلی کی کٹونی کرتے رہتے ہیں۔ مگر تبلیغی جماعت کے اجتماع میں مسلسل تین دن تک بجلی کی سپلائی جاری رہی۔ انھوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ خود میرے سامنے سیز پولس انسپکٹر شری دیش مکھ نے بجلی محکمہ (ایم ایس ای بی) کے انجینیر کو بلایا اور اس سے کہا دیکھو یہاں مسلمانوں کا دھارمک کا یہ ہو رہا ہے۔ ان دنوں میں یہاں بجلی کٹ مت کرنا۔ پچھلے کچھ برسوں کے اندر ہندوستان کے مسلمانوں میں تعمیری کام کی ایک نئی لہر آئی ہے۔ اس کی ایک مثال پونہ بھی ہے۔ پونہ کے ایک مسلم تاجر نے بتایا کہ پونہ کے مسلمانوں نے پچھلے دس سال میں کافی ترقی کی ہے۔ تجارت اور صنعت دونوں میدانوں میں وہ مسلسل آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس کی کئی مثالیں انھوں نے بتائیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader