پٹنہ کا سفر
Urdu book, p. 542
By Maulana Wahiduddin Khan
راجستھان کا سفر بھارت وکاس پریشد کی دعوت پر راجستھان کا سفر ہوا۔ ۳۱ مارچ ۱۹۹۵ کی صبح کو دہلی سے روانگی ہوئی۔ یکم اپریل کی شام کو دوبارہ دہلی واپس آگیا۔ ذیل میں اس سفر کی مختصر رو داد درج کی جاتی ہے۔ ۳۱ مارچ ۱۹۹۵ کو فجر سے پہلے گھر سے روانگی ہوئی۔ سڑکیں اور راستے بالکل سنسان نظر آئے۔ کہیں کہیں کوئی کار یا اسکوٹر رینگتا ہوا دکھائی دیا جو اس بات کی علامت تھا کہ یہاں کچھ انسان بھی بستے ہیں۔ میں نے سوچا کہ بڑے بڑے شہروں کی رونق اسی وقت ہے جب کہ وہاں زندہ انسان بھی موجود ہوں۔ شہر اگر زندہ انسانوں سے خالی ہو جائے تو اپنے تمام مادی اور ظاہری ساز وسامان کے باوجود یہ شہر شہر نہ رہیں بلکہ بھوت نگر دکھائی دیں۔ دہلی سے مودی لفت کی فلائٹ ۱۲۳ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ ہندوستان میں اب پرائیویٹ ہوائی کمپنیوں کا دور آ چکا ہے۔ مودی لفت انھیں میں سے ایک ہے جو ایک انڈین کمپنی اور جرمن کمپنی کے اشتراک سے قائم ہوئی ہے۔ پرائیویٹ کمپنیوں کی کارکردگی ہر لحاظ سے سرکاری کمپنیوں سے بہتر ہے۔ آزادی کے بعد ہندوستان کی سیاسی قیادت پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھ میں آئی جو ۱۹۳۴ میں اپنی آٹو بیا گرافی میں لکھ چکے تھے کہ وہ صرف سوشلسٹ نظام (Socialist order) کو تمام مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ آزادی کے بعد جنوری ۱۹۵۵ میں آوڈی (مدراس) میں کانگرس کا خصوصی اجلاس ہوا۔ اس میں جواہر لال نہرو کی پرجوش تحریک اور تجویز پر سوشلسٹ طرز کا سماج (Socialistic pattern of society) بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ میں نے اس کے بعد ہی اس کے خلاف ایک مضمون لکھا تھا۔ اس میں بت بتایا گیا تھا کہ سوشلزم (معاشی عمل پر حکومت کا کنٹرول) ایک تباہ کن نظریہ ہے۔ اس وقت شاید میں اکیلا تھا جو اس نظریہ کا اتنا شدید مخالف تھا۔ اب یہ بات ایک ثابت شدہ حقیقت بن چکی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader